سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 279
۲۷۹ ان کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔ملک صاحب نے فرمایا۔بھائی جان! میں نے ظفر اللہ خان کی چٹھی کل آپ کو پڑھ کر سنادی تھی۔اب آپ فرما ئیں۔آپ کی کیا رائے ہے ؟ جناب نواب صاحب نے فرمایا۔میں نے کل بھی کہا تھا اور آج بھی کہتا ہوں کہ مجھے ظفر اللہ خان کے ساتھ اتفاق ہے۔اس مرحلے پر صحیح طریق یہی ہے کہ تم اس ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاؤ۔چند منٹ کی گفتگو کے بعد وہیں سے جناب ملک صاحب نے جناب نواب سر مظفر علی خان صاحب کے ہاں ٹیلیفون کیا تو معلوم ہوا نواب صاحب اسٹیٹ تشریف لے گئے ہیں وہاں ٹیلیفون نہیں تھا۔جناب ملک صاحب نے اپنے سائق کو ارشاد فرمایا فورا کار میں جا کر نواب سر مظفر علی خان صاحب کو ان کی اسٹیٹ سے لے آؤ۔جناب نواب صاحب کی تشریف آوری پر جناب ملک صاحب نے خاکسار کے خط کا ذکر جناب نواب صاحب سے کیا اور ان کی رائے دریافت کی۔اس پر انہوں نے فرمایا۔ہم مسلم لیگ کی تحریک عدم تعاون کو نا کام کر چکے ہیں ، مجلس میں ہماری پوزیشن مضبوط ہے، بجٹ کا اجلاس چند دنوں میں شروع ہونے والا ہے اس بات سے تو مجھے اتفاق ہے کہ ہمیں حکومت سے دست بردار ہو جانا چاہئے لیکن میری رائے یہ ہے کہ بجٹ پاس کرنے کے بعد استعفیٰ دینا چاہئے۔یہ سنتے ہی جناب نواب اللہ بخش صاحب نے فرمایا۔یہ بات بالکل غلط ہے مشورہ طلب امر یہ نہیں کہ استعفیٰ کب دیا جائے مشورہ طلب امر یہ ہے کہ اس وقت استعفیٰ دیا جائے یا نہیں۔فیصلہ یہ ہونا چاہئے استعفاء دیا جائے یا پھر یہ ہونا چاہئے استعفاء نہ دیا جائے۔یہ کوئی فیصلہ نہیں آج سے ڈیڑھ ماہ یا دو ماہ بعد استعفاء دیا جائے۔آپ کیا کہہ سکتے ہیں اس درمیانی عرصے میں کیا واقعات ہوں اور کیا مراحل پیش آئیں اور کن حالات کا آپ کو سامنا ہو۔اگر اس وقت استعفاء نہیں ہونا چاہئے تو بس اسی پر اکتفا کرو ، استعفاء نہیں دینا چاہئے۔کل کیا ہو گا یا ایک مہینہ بعد کیا ہو گا، یہ وقت آنے پر دیکھا جائے گا۔پھر ایک اور امر بھی قابل غور ہے۔اگر آپ آج یہ فیصلہ کریں۔بجٹ پاس کرنے کے بعد استعفاء دیں گے تو یہ خلاف دیانت ہے۔بجٹ آپ پارٹی کی مدد سے پاس کریں گے۔اس وقت تو آپ انہیں بتا ئیں گے نہیں کہ آپ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ بجٹ پاس کرنے کے بعد استعفاء دے دیں گے۔اگر اس وقت آپ انہیں بتا ئیں گے تو ابھی سے پارٹی منتشر ہو جائے گی اور خود ہی آپ کا استعفاء ہو جائے