سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 262
۲۶۲ فصاحت و بلاغت اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے بلند پایہ علم کلام کے حسین امتزاج کا شاہکار ہیں۔قائداعظم کادور ثانی قائد اعظم نے بر صغیر ہند و پاک کی سیاست اور آزادی کی جدوجہد میں نهایت قابل رشک کردار ادا کیا۔آپ کی سیاسی زندگی کے دو دور تھے پہلے دور میں آپ آل انڈیا کانگریس کے ممبر تھے اور ہندو مسلم اتحاد کے سفیر کے نام سے جانے جاتے تھے۔اس دور میں آپ کی زیادہ ترسیمی کوشش رہی کہ ہندو اور مسلمان باہم متحد ہو کر غیر ملکی حکمرانوں کی غلامی سے آزادی حاصل کر لیں۔اپنی اس حیثیت میں بھی آپ کانگریس میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے اور اپنے اخلاق و کردار کی وجہ سے عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔اسی زمانہ میں آپ نے گول میز کانفرنسوں میں ہندوستان کے مسلمانوں کی نمائندگی کی۔تیسری گول میز کانفرنس کے بعد آپ دل برداشتہ ہو کر لندن میں ہی رہائش پذیر ہو گئے اور وہاں اپنی پریکٹس شروع کر دی۔قائد اعظم اور ان کا عبد " میں اس امر کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :۔" مجھے اب ایسا محسوس ہونے لگا کہ میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔نہ ہندو ذہنیت میں کوئی خوشگوار تبدیلی کر سکتا ہوں نہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول سکتا ہوں۔آخر میں نے لندن میں ہی بود و باش کا فیصلہ کر لیا۔" ( قائد اعظم اور ان کا عہد صفحہ ۱۶۱۔مقبول اکیڈمی لاہور۔ایڈیشن (۱۹۹ ء )) قائد اعظم نے اپنے فیصلہ کی جن دو وجوہ کا ذکر کیا ہے ان میں سے پہلی وجہ ہندو ذہنیت میں تبدیلی نہ کر سکنا بھی اپنی جگہ بہت اہم ہے کیونکہ ہندو ذہنیت کی وجہ سے ان کی مسلم آزاری میں کوئی کمی نہیں آسکتی تھی اور ہر وہ شخص جو اخلاص و نیک نیتی سے ہندو مسلم اتحاد کیلئے کوشاں رہاوہ اس حقیقت سے آگاہ ہو کر یقیناً بہت مایوس و دل برداشتہ ہوتا تھا خواہ وہ مولانا محمد علی جو ہر ہوں یا قائد اعظم محمد علی جناح۔دوسری وجہ " مسلمانوں کی آنکھیں نہ کھول سکنا " پہلی وجہ سے بھی زیادہ تکلیف دہ اور مایوس کن ہے۔قائد اعظم نے نہایت خلوص و نیک نیتی سے جذبہ خدمت و حب الوطنی سے سرشار ہو کر قومی ترقی و بہتری کیلئے اپنی تمام صلاحیتیں صرف کر دیں مگر ان کو یہ تلخ تجربہ ہوا کہ اپنی قوم کے بعض علماء نے جو بزعم خویش قوم کی نمائندگی کر رہے تھے انہیں کا فراعظم کہہ کر اپنے فتوؤں کی زد پر رکھ لیا اور وہ لوگ جو آپ کے ساتھ تعاون پر آمادہ تھے ان میں سے بھی بعض کو آپ نے کھوٹے سکے قرار دیا۔گویا آپ کی سیاسی زندگی کے پہلے دور کا نتیجہ آپ کے اپنے