سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 245 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 245

۲۴۵ پر چل نکلیں تو کل جب اپنی حکومت ہوگی اس وقت اس باغیانہ تربیت کی وجہ سے وہ اپنی حکومت کیلئے بھی مشکل پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔" اس رہنما اصول کو مد نظر نہ رکھنے کی وجہ سے اس وقت کی قیادت اپنے بلند بانگ دعاوی اور کثیر التعداد حامیوں کی مدد کے باوجود ترک موالات ، تحریک خلافت تحریک ہجرت و غیره مقاصد کے حصول میں بری طرح ناکام اور خائب و خاسر رہی۔جماعت احمدیہ نے اپنی مخصوص مذہبی و روحانی حیثیت کی وجہ سے کبھی بھی معروف معنوں میں سیاست میں دخل نہیں دیا۔مگر امن و صلح پسندی کی فضاء میں شہری حقوق کے حصول اور آزادی ضمیر کے سلسلہ میں مفید و مؤثر خدمات سرانجام دیں تو اس پر بھی معتر نہین نے اعتراض کرنے شروع کر دیئے جس کے جواب میں حضور فرماتے ہیں۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم سیاست میں کیوں دخل دیتے ہیں ان کے لئے میرے تین جواب ہیں۔اول یہ کہ ہم اپنا کام کر رہے تھے تم نے ستایا دق کیا اور بار بار اعتراض کئے کہ تم کیوں خاموش ہو اس لئے ہم مجبور ہو گئے کہ اپنی صحیح رائے کا اظہار کر دیں۔دو سرے یہ کہ ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان کے ہر حصہ اور بیرونی ممالک میں پھیلی ہوئی ہے اور ان میں سے کئی ایک ایسے دوست ہیں جنہیں سالہا سال قادیان آنے کا اتفاق نہیں ہو تا اس لئے ضروری ہے کہ ان کی رہنمائی کے لئے ہم اپنے نیز بیرونی پریس کے ذریعے بھی ملکی امور کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر دیں اور انہیں مناسب ہدایات دیں۔تیسرے یہ کہ ہم مبلغ ہیں اور ہمارا پیشہ یہی ہے کہ جو بات حق سمجھیں اسے دنیا میں پھیلا ئیں۔(الفضل ۷۔جون ۱۹۳۰ء) حضرت مصلح موعود نے برصغیر کی تاریخ کے ہنگامہ خیز دور مسلم مفاد کے تحفظ کیلئے قربانی میں ایک دور اندیش متوازن و ہمدرد رہنما کی حیثیت میں جہاں ہندو مسلم اتحاد کی بھر پور کوشش فرمائی اور اپنی ان کوششوں کو ہند و ضد اور تعصب کی نذر ہوتے ہوئے دیکھ کر مسلمانوں کو آنے والے حالات کے لئے مکمل تیاری اور ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار رہنے کی تلقین فرمائی۔اس زمانہ کے آپ کے خطبات ، تقاریر اور مختلف مواقع کی گفتگو میں یہ امور واضح اور نمایاں ہیں جن کا یہاں تذکرہ موجب تطویل ہو جائے گا تاہم حضور کی سیاسی بصیرت دور اندیشی کا مظہر ایک خطبہ ذیل میں پیش کیا جاتا ہے۔اس قدرے طویل اقتباس کو پیش کرنا ناگزیر