سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 224
۲۲۴ " آج جو قدم وہ اٹھا ئیں گے اگر اس میں غلطی ہو گی تو الٹے پاؤں لوٹنا ان کے اختیار میں نہیں ہو گا بلکہ جن امور کا مطالبہ انہوں نے کیا ہے اگر وہ آج انہیں منوانا چاہیں تو بہت زیادہ آسان ہے لیکن سوراج ملنے کے بعد ان مطالبات کا منوانا بالکل ناممکن (مسلمانوں کے حقوق اور نہرو رپورٹ صفحہ (۲۶) ہو گا۔" اسی امر کو مزید واضح کرنے اور اس پر اور زیادہ زور دینے کیلئے آپ فرماتے ہیں۔" وہ اس وقت اپنے مطالبات پر زور نہ دے کر اپنا اور اپنی اولادوں کا خون کر رہے ہیں۔نہیں نہیں بلکہ وہ خود اسلام کی جڑوں پر تبر رکھ رہے ہیں اور ہندوستان میں سپین کی تباہی کی داغ بیل ڈال رہے ہیں۔عِيَاذَا بِاللهِ" (مسلمانوں کے حقوق اور نہرو رپورٹ صفحہ ۲۶) آزادی سے محرومی اور ہند و بالا دستی کے خوفناک نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے آپ فرماتے مسلمانوں کو چند ہی سال میں پورے طور پر اپنے آپ کو ہندو کلچر کے آگے ڈال کر اپنی قومی ہستی کو کھو دینا پڑے گا۔" ( مسلمانوں کے حقوق اور نہرو رپورٹ صفحہ ۹۶) پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط اور وسیع کرنے کیلئے موثر ترین ذریعہ کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔وو ہندوستان ہندوؤں سے ہمار ا وطن زیادہ ہے۔پھر ہم اسے کس طرح غیر کہہ سکتے ہیں۔کیا سپین میں سے نکل جانے کی وجہ سے ہم اسے بھول گئے ہیں ہم یقیناً اسے نہیں بھولے۔ہم یقیناً ایک دفعہ پھر پین کو لیں گے۔اسی طرح ہم ہندوستان کو نہیں چھوڑ سکتے۔یہ ملک ہمارا ہندوؤں سے زیادہ ہے۔ہماری ستی اور غفلت سے عارضی طور پر یہ ملک ہمارے ہاتھ سے گیا ہے۔ہماری تلواریں جس مقام پر جا کر کند ہو گئیں وہاں سے ہماری زبانوں کا حملہ شروع ہو گا اور اسلام کے خوبصورت اصل پیش کر کے ہم اپنے ہندو بھائیوں کو خود اپنا جزو بنالیں گے۔" (الفضل ۶۔اپریل ۱۹۴۶ء) مسلمانوں میں حوصلہ پیدا کرنے کیلئے اور انہیں نظم و ضبط کی اہمیت کا احساس دلانے کیلئے آپ فرماتے ہیں۔اب ایک اور زمانہ آرہا ہے ایسا معلوم ہو تا ہے کہ انگریز ایک حد تک حکومت