سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 223 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 223

۲۲۳ کھڑے ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی بچائے تو بچائے مسلمانوں کی وہ تیاری نہیں ہے اور نہ ہی وہ قربانی کا جذبہ ان میں پایا جاتا ہے جو ایک زندہ رہنے والی قوم میں ہونا چاہئے۔" الفضل ۲۷۔فروری ۱۹۴۷ء) حضور کا ایک پیغام جد و جہد آزادی کے عروج کے زمانہ میں وزیر اعظم برطانیہ کو بھیجوایا گیا روزنامه الفضل ۱۳۔دسمبر ۱۹۴۶ ء اس خبر کو شائع کرتے ہوئے لکھتا ہے۔پٹنی کی احمد یہ مسجد کے امام جناب چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے رائٹر کو بتایا ہے کہ میں نے جماعت احمدیہ کے امام کا مکتوب گرامی مسٹرائیلی وزیر اعظم کے حوالہ کر دیا ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کے مفاد کو قربان کر کے کانگریس کے حلیف نہ بنیں۔" مندرجہ بالا واقعات ایسے بے شمار واقعات میں سے بطور مثال پیش کئے گئے ہیں۔جن سے پتہ چلتا ہے کہ انگریز حکمرانوں سے آزادی حاصل کرنے کی آئینی جدوجہد اور مسلمانوں کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرنے میں ہمارے محبوب امام کا مقام یقینا بہت اونچا ہے اور حضور کا زندگی بھر کا یہ مسلسل عمل ایک واقعاتی جواب ہے ان کو تاہ بین مخالفوں کا جو لوگوں کو از راہ ظلم و زیادتی یہ باور کرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ جماعت احمدیہ اور امام جماعت احمدیہ انگریزوں کے خوشامدی اور وطن کی آزادی کے خلاف تھے۔مسلم مفاد کا تحفظ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ مسلم مفاد کے حصول اور آزادی کیلئے کوشش کرنے کی طرف حضور جس خلوص سے توجہ دلا رہے تھے اس کا بھی مختصر ذکر کیا جائے۔آپ کے اس سلسلہ میں بے شمار ارشادات میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔" ہمیں اس امر کو یا د رکھنا چاہئے کہ ہندوستان کی تاریخ قریب میں مسلمانوں کے حقوق کے طے کرنے کا موقع دوبارہ نہیں آئے گا اور یہ کہ اگر ہم آج غلطی کر بیٹھے تو ہمیں اور ہماری اولادوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا اور گو ہم اپنے آپ کو قربان کرنے کو تیار ہوں ہمیں کوئی حق حاصل نہیں کہ اپنی اولادوں کو قربان کر کے غلامی کے طوقوں میں جکڑ دیں یقیناً اس سے زیادہ بد قسمت انسان ملنا مشکل ہو گا جس کی اپنی اولاد یا جس کے آباء کی اولاد اس پر لعنت کرے اور اسے اپنی ذلت کا موجب قرار دے۔" راؤنڈ ٹیبل کانفرنس اور مسلمان صفحہ (۲)