سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 12
۱۲ نشانات دکھلائے ہیں۔یہ بالکل درست ہے اور میں تو کہتا ہوں کہ آپ کی صداقت کے خدا تعالیٰ نے اس قدر نشانات دکھلائے ہیں کہ جن کا شمار بھی نہیں ہو سکتا۔مگر کن کیلئے۔انہیں کیلئے جو عقل رکھتے ہیں۔اگر کوئی شخص آپ کی صداقت کے نشانات دیکھنے کیلئے یہاں آئے تو یہ جس قدر بھی عمارتیں سامنے نظر آرہی ہیں (مسجد اقصیٰ میں کھڑے ہو کر) ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر باقی سب آپ کے نشان ہیں۔پھر احمد یہ بازار سے آگے کے جس قدر مکانات بنے ہیں ان کے لئے جو زمین تیار کی گئی تھی اس میں ڈالا ہوا مٹی کا ایک ایک بورانشان ہے۔یہاں اتنا بڑا گڑھا تھا کہ ہاتھی غرق ہو سکتا تھا۔پھر قادیان سے باہر شمال کی طرف نکل جائیے وہاں جو بلند اور اونچی عمارتیں نظر آئیں گی ان کی ہر ایک اینٹ اور چونے کا ایک ایک ذرہ حضرت مسیح موعود کی صداقت کا نشان ہے۔پھر قادیان میں چلتے ہوئے جس قدر انسان نظر آتے ہیں خواہ وہ ہندو ہیں یا سکھ یا غیر احمدی ہیں یا احمدی سب کے سب آپ ہی کی صداقت کے نشان ہیں۔احمدی تو اس لئے کہ وہ حضرت مسیح موعود کی صداقت کو دیکھ کر اپنے گھر بار چھوڑ کر یہاں کے ہو رہے اور غیر احمدی اور دوسرے مذاہب والے اس لئے کہ ان کی طرز رہائش لباس وغیرہ حضرت مسیح موعود کے دعوئی سے پہلے وہ نہ تھے جو اب ہیں۔ان کی پگڑی ان کا کرتہ ان کا پاجامہ ان کی عمارتیں ، ان کا مال ان کی دولت وہ نہیں تھی جو اب ہے۔حضرت مسیح موعود کے دعوی کرنے پر لوگ آپ کے پاس آئے اور ان لوگوں نے بھی فائدہ اٹھا لیا اور لا يَشْقَى جَلِيْسُهُمْ کی وجہ سے ان کو بھی نعمت مل گئی تو یہ سب آپ کی صداقت کے نشانات ہیں۔دور جانے کی ضرورت نہیں اس مسجد کی یہ عمارت یہ لکڑی یہ کھمباسب نشان ہیں کیونکہ یہ پہلے نہیں تھے۔جب حضرت مسیح موعود نے دعوی کیا تو پھر بنے۔پس لاکھوں نشانات تو یہاں ہی مل سکتے ہیں۔پھر سالانہ جلسہ پر جس قدر لوگ آتے ہیں ان میں سے ہر ایک آنے والا ایک نشان ہوتا ہے۔جو خدا تعالیٰ ہر سال ظاہر کرتا ہے اور جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا کر تا رہے گا۔" الفضل ۲۰۔جنوری ۱۹۱۷ء) قادیان کی ترقی اور حضرت فضل عمر کے بلند روحانی مقام کو سمجھنے کیلئے حضور کا مندرجہ ذیل بیان نهایت بصیرت افروز اور غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔مکہ کی بنیاد ابراہیم اول کے ہاتھوں سے رکھی گئی اور مدینہ کی بنیاد ابراہیم اعلیٰ کے ہاتھوں