سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 194
۱۹۴ ان کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔میں مسلمان اخبارات کو اس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری آپس کی مخالفت خواہ کتنی پر زور ہو مگر اس میں نیتوں پر حملہ نہ ہو اگر دل میں ہمیں یقین بھی ہو جائے کہ ایک شخص محض نیک نیتی سے کام نہیں کر رہا تو بھی قومی کاموں میں ایسے خیالات کے اظہار سے ہم حتی الوسع باز رہیں تاکہ بجائے فائدہ کے نقصان نہ ہو۔اگر اس شخص کی نیت خراب ہو گی تو اس کا اندازہ خود ظاہر ہو کر رہے گا اور خدا تعالیٰ اس سے گرفت کرے گا لیکن اگر ہم اپنے اندازہ میں غلطی کریں گے تو یقینا ہم گناہ گار بنیں گے پس ہمیں اپنی نکتہ چینی کو صرف ظاہر تک محدود رکھنا چاہئے اور دلوں کے اسرار کو نکالنے کی یا سمجھنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔اس کے اختیار کرنے میں ہمارا کوئی نقصان نہیں بلکہ بالکل ممکن ہے کہ اگر وہ شخص جس سے ہمیں اختلاف ہے حد سے تجاوز نہیں کر جاتا تو اپنی اصلاح کی طرف مائل ہو جائے اور ہماری خرابی کا موجب نہ رہے بلکہ ہمار ا دست و بازو بن کر ہماری تقویت کا باعث ہو۔" (الفضل ۳۰۔اگست ۱۹۲۹ء) موجودہ زمانے میں پراپیگینڈا کی غرض سے بے سروپا باتوں اور افواہوں کو شائع کرنا اور غلط باتوں کو پھیلاتے چلے جانا فن صحافت کا کمال سمجھا جاتا ہے مگر حضور کی مندرجہ بالا نصیحت میں اس کے بر عکس قرآنی ارشادات اور احادیث کی حکمتوں کا لطیف رنگ پایا جاتا ہے جو یقینا زیادہ مفید اور زیادہ موثر ہے۔کانگریس کی طرف سے سول نافرمانی یا ترک موالات کی تحریک کے پیش نظر حکومت کو اخبارات بند کر دینے کی دھمکی بھی دی گئی۔مسلم پریس کا وہ حصہ جو اپنی معقولیت و سنجیدگی کی وجہ سے اس شورش میں عملاً حصہ لینے پر تیار نہیں تھا ان کے خلاف کانگریس نے محاذ قائم کر لیا اور کوشش کی کہ مسلم مفاد کے اس اہم حصہ کو ختم کر کے مسلمانوں کی آواز ان کے گلے میں ہی دبادی جائے۔تاہم حضور کی ہدایت پر جماعت کی طرف سے اخبار "انقلاب" اور "سیاست" کو بذریعہ تار ان کی حفاظت و سلامتی کے لئے مدد کی پیشکش کی گئی جس کے جواب میں اخبار "انقلاب" نے اپنی ۲۹۔مئی ۱۹۳۰ء کی اشاعت میں " احمدی بھی انقلاب کی حفاظت کیلئے تیار ہیں" کے عنوان کے تحت لکھا:۔