سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 193
١٩٣ کروڑوں مسلمانوں کے محبوب رہنما کی تو ہین پر حرکت میں نہیں آیا تھا وہ ایک جج کی مزعومہ تو ہین پر حرکت میں آگیا اور مسلم آوٹ لک کے ایڈیٹرو پبلشر کو اس جرم میں سزا سنادی گئی۔حضرت مصلح موعود ورتمان کے مضمون اور حج کے متعصبانہ رویہ کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے اور آپ نے اس کے خلاف اشتہار مضامین وغیرہ چھپوانے اور ایک محضر نامہ تیار کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے فرمایا :۔۲۲۔جولائی کے جلسوں میں مسلمانوں سے دستخط لے کر ایک محضر نامہ تیار کیا جائے کہ ہمارے نزدیک "مسلم آوٹ لک" کے ایڈیٹر اور مالک نے ہر گز عدالت عالیہ کی ہتک نہیں کی بلکہ جائز نکتہ چینی کی ہے جو موجودہ حالات میں ہمارے نزدیک طبعی تھی اس لئے ان کو آزاد کیا جائے اور جلد سے جلد جسٹس کنور دلیپ سنگھ کا فیصلہ مسترد کر کے مسلمانوں کی دلجوئی کی جائے۔" (الفضل یکم جولائی ۱۹۲۷ء) آنحضرت میمیک کی عقیدت محبت کے مقابل حکومت کی پسند نا پسند کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا :۔" مجھ سے یہ نہیں ہو سکتا کہ گورنمنٹ کی خاطر قوم کو قربان کردوں۔اس وقت قوم کی حفاظت کا سوال ہے۔" (لیکچر شمله صفحه ۳۳) مسلمانان بر صغیر اس احتجاج میں برابر شریک ہوئے اور ہندوستان کے ایک سرے سے وسرے سرے تک اس پر امن مگر موثر احتجاج سے حکومت وقت کو مسلمانوں کی رسول عربی سے گہری محبت و عقیدت کا علم ہونے کے علاوہ مسلمانوں میں حضور ملی کی محبت عقیدت کی ایک نئی لہردوڑ گئی۔ہندوؤں کے مقابلہ میں مسلمانوں میں تنظیم کی کمی ، تعلیم کی کمی ، سرمایہ مسلم پریس کی حمایت کی کمی اثر و رسوخ کی کمی، تنظیم کی کمی کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ کی بھی بہت زیادہ کمی تھی۔اس زمانے میں مسلم اخبارات بہت ہی کم تھے اور اس محدود تعداد میں سے بھی ایک بڑی تعداد کانگریس کے زیر اثر ہندوؤں کی ہمنوا تھی ان حالات میں پریس کی بہتری بھی حضور کے پیش نظر تھی۔آپ جماعت کے اخبارات و رسائل کو ہمیشہ مسلم مفاد کیلئے زور قلم استعمال کرنے کی ہدایت فرماتے ، خود بھی زور دار مضامین اور کتب تحریر فرمائیں عام مسلم پریس کو مؤثر بنانے کیلئے مختلف تجاویز پیش فرمائیں، باہم اتحاد و اتفاق کی فضا سے جو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں