سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 192
۱۹۲ کے وقت ہماری امداد کے لئے آئے اور انہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی مدد کرنے پر آمادہ ہو گئے۔" ( تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۲۷ء صفحه ۹) لاہور میں ہونے والے اس فساد کے سلسلے میں مسلمانوں کی امداد کے لئے حضور ایدہ اللہ تعالٰی نے حضرت خان صاحب ذوالفقار علی خان اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو لاہور بھیجوانے کے علاوہ مسلم لیگ لاہور کے صدر کے نام ایک تار کے ذریعہ حسب ذیل جذبات کا اظہار فرمایا۔میں لیگ کی توجہ اس طرف مبذول کروانی چاہتا ہوں کہ اس وقت فسادات لاہور کے مسلمان مظلومین کی مدد کے لئے فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔جماعت احمد یہ اس معاملے میں ہر واجبی امداد دینے کیلئے تیار ہے۔میرے چیف سیکرٹری اس وقت لاہور میں ہیں اور میں نے انہیں ہدایت بھیجی ہے کہ اس معاملہ میں آپ سے ملاقات کریں۔میں نے احمدی وکلاء کو بھی یہی تحریک کی ہے کہ وہ اپنی خدمات پیش کریں۔اس معاملہ میں خاص کوشش ہونی چاہئے کہ پبلک کی نظر میں اس کو ثابت کیا جائے کہ ان فسادات میں مسلمانوں پر ابتلاء کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی بلکہ اس سارے قتل و غارت اور نقصان مال کی ذمہ داری ہندوؤں اور سکھوں پر ہے جنہوں نے بے گناہ مسلمانوں پر حملہ آور ہو کر فساد کی آگ کو مشتعل کیا۔" (الفضل ۲۴۔مئی ۱۹۲۷ء) در تمان نامی ایک ہندو اخبار نے ہمارے پیارے آقا خاتم النبيين الا اللہ کے متعلق انتہائی دریدہ دھنی سے ایک اشتعال انگیز مضمون شائع کیا مسلمان اس پر بجاطور پر دُکھی دلوں کے ساتھ اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے عدالت سے داد رسی کیلئے کوشاں ہوئے مگر غیر متوقع طور پر مسلمانوں کے جذبات اور انصاف کو مد نظر رکھنے کی بجائے جسٹس کنور دلیپ سنگھ نے اس کیس کو یہ کہتے ہوئے خارج کر دیا کہ قانون کے مطابق اس مضمون میں کوئی خرابی نہیں ہے اور لکھنے والے کے خلاف کوئی کارروائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس سراسر جانبدارانہ اور متعصبانہ فیصلہ کے خلاف مسلمانوں میں غم و غصہ کی ایک لہر دوڑ گئی۔مسلمانوں کے ایک مشہور اخبار مسلم آوٹ تک ( Muslim Out Look) نے اس فیصلہ کے خلاف مسلمانوں کے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ایک زور دار ادار یہ لکھا مگر عجیب بات ہے کہ وہ قانون جو دنیا میں بسنے والے