سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 189
۱۸۹ قوم کو یہ حق ہے کہ جو باتیں وہ اپنے مذہب کی رو سے ناپسند کرتی ہو ان سے دوسرے مذاہب والوں کو جبرا رو کے خواہ ان کا مذہب ان کے کرنے کی تعلیم دیتا ہو۔یہ طریق اختیار کرنے سے فساد کے موجبات بڑھتے ہیں اور سینکڑوں مثالیں ایسی مل جاتی ہیں جن میں فساد بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا۔مثلاً مسلمان سود منع سمجھتے ہیں اگر وہ ہندوؤں سے کہیں کہ تم سود لینا بند کر دو کیونکہ اس سے ہماری دل آزاری ہوتی ہے اور ہمار انڈ ہب اس سے منع کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یقینا فساد ہو گا۔اس طرح کئی مثالیں ہند و صاحبان پیدا کر سکتے ہیں اور اس طرح جھگڑے اور فساد کی کئی راہیں پیدا ہو سکتی ہیں۔تعجب کی بات ہے کہ جب ہندو اور مسلمان اپنے مذہب کے اصول خود توڑتے ہیں تو انہیں کچھ نہیں کہا جاتا لیکن جب کوئی دوسرے مذہب کا شخص کسی اصل کی پابندی اس وجہ سے نہیں کرتا کہ اس کے مذہب کی تعلیم نہیں تو پھر اس وجہ سے ایک دوسرے کے گلے کاٹے جاتے ہیں۔مذہبی جھگڑوں میں ہم اخلاقی فرض کو جو فطرتی طور پر سب پر وارد ہوتا ہے بھول جاتے ہیں اور ایک دوسرے کے مذہبی پیشواؤں اور قومی ہیروؤں کی عزت نہیں کرتے بلکہ ہتک کرتے ہیں۔اس طرح سے ایک قوم کے ماضی کو تاریک ثابت کر کے اس کے مستقبل کو خراب کرتے ہیں۔ہمیں ایک دوسرے کو اپنی قومی عمارت کیلئے بنیادوں کی جگہ دینی چاہئے تاکہ ان بنیادوں پر ہر ایک قوم اپنی قومی عمارت بنا سکے اور وہ بنیاد کسی قوم کے لئے اس کی ماضی ہوتی ہے۔ہندو اور نگزیب کو اور مسلمان ہندوؤں کے قومی مشہور لوگوں کو بُرا کہتے ہیں جس سے منافرت بڑھتی ہے۔دو تیسرا امر اس سلسلے میں یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی تبلیغ کو سخت نا پسند کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ ایک بہت بڑا حملہ ہے حالانکہ ہمارا رویہ یہ ہونا چاہئے کہ ایک دوسرے کے خیالات سنیں اور ایک قوم دوسری قوم کو بلا کر اس کے مذہبی خیالات سے آگاہی حاصل کرے لیکن ضروری ہو کہ وہ قوم اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے نہ کہ دوسرے مذاہب کے نقائص کیونکہ کسی قوم کے نقائص بیان کرنے سے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا اور اس سے اس کا مذہب کامل نہیں ہو سکتا۔غرضیکہ یہ باہمی سمجھوتہ ہو جانا چاہئے کہ ایک دوسرے کی باتیں سنی جائیں۔اس سے امن کے قیام میں مدد ملے گی۔اس