سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 181
مسلمانوں کے مفاد کے خلاف آل انڈیا کانگریس اپنے طریق پر سرگرم عمل تھی چنانچہ آل مسلم پارٹیز کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے مشہور ادیب صحافی مولانا عبدالمجید سالک مدیر روزنامہ انقلاب لکھتے ہیں۔” یہ تو صرف مسلمانوں کی آل پارٹیز کانفرنس تھی لیکن کانگریس نے اپنی تاریخوں کلکتہ کے مقام پر "آل پارٹیز کنونشن" طلب کی جس میں کانگریس ، ہندو سبھا لبرل فیڈریشن، جسٹس پارٹی، مسلم لیگ وغیرہ کو دعوت دی۔مقصد یہ تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو جمع کرکے ان سے نہرو رپورٹ پر مہر توثیق ثبت کرالی سرگزشت صفحه ۲۱۵) جائے۔" مسلم لیگ کے ابتدائی زمانہ میں قربانی کی عادت کے فقدان کی وجہ سے لیگ کو قومی مقاصد کے حصول کیلئے اپنی کوششوں میں جو مشکل پیش آتی تھی اس کے حل کیلئے لیگ کے لیڈروں کی نظریں حضور کی طرف اُٹھتی تھیں اور انہیں اس سلسلہ میں کبھی مایوسی سے دو چار نہ ہو نا پڑتا تھا۔اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔چند سال پہلے آل انڈیا مسلم لیگ کے کئی جلسے مجھ سے روپیہ لیکر کئے گئے۔منتظمین کے پاس بعض دفعہ اتنا روپیہ بھی نہ ہو تا تھا کہ جلسہ کر سکیں اس موقع پر وہ مجھے لکھتے تھے اور میں روپیہ دیتا تو وہ جلسہ کرنے میں کامیاب ہوتے تھے۔" (رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۴۰ء) اس امر کے متعلق ایک اور موقع پر حضور نے فرمایا :۔مجھے لاہور میں ایک دفعہ لکھنؤ کے ایک وکیل ملے انہوں نے کہا قریباً " نو سال مولانا محمد علی صاحب کا سیکرٹری رہا ہوں اور مجھے خوب یاد ہے کہ جب کبھی مسلم لیگ کا جلسہ ہو تا تھا آپ کو اس میں بلایا جاتا تھا اور آپ سے مشورہ لیا جا تا تھا۔میں نے کہا دو سرے مسلمان تو یہی کہتے ہیں کہ ہمارا مسلم لیگ سے کوئی تعلق نہیں رہا۔وہ کہنے لگے کوئی شخص جو حالات سے واقف ہو ایسا نہیں کہہ سکتا میں خود مسلم لیگ کے جلسوں میں شریک ہو تا رہا ہوں اور مجھے خوب یاد ہے کہ آپ کو ان جلسوں میں بلایا جا تا تھا اور جب روپیہ کی وجہ سے جلسہ نہ ہو سکتا تھا تو آپ سے مالی امداد لی جاتی تھی ہم لوگ جو ابھی تک زندہ موجود ہیں اس بات کے گواہ ہیں۔۔۔الفضل ۱۴ جون ۱۹۵۶ء صفحه ۴)