سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 178 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 178

IZA بھی انتہائی جدوجہد سے منہمک ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب کہ اسلام کے اس منظم فرقہ کا طرز عمل سواد اعظم اسلام کے لئے بالعموم اور ان اشخاص کیلئے بالخصوص جو بسم اللہ کے گنبدوں میں بیٹھ کر خدمتِ اسلام کے بلند بانگ و در باطن بیچ دعادی " کے خوگر ہیں مشعل راہ ثابت ہو گا۔" (ہمدرد دہلی ۲۴۔ستمبر۷ ۱۹۲ء) مکرم پروفیسر اختر اورینوی صدر شعبہ اردو پٹنہ یونیورسٹی کے مندرجہ ذیل بیان سے بھی یہی ثابت ہو تا ہے کہ حضور ہمیشہ اسلامی مفاد کیلئے سرگرم عمل رہتے تھے۔میں خود اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میرے اور دوسروں کے سامنے بار بار مولانا محمد شفیع صاحب کے دست راست پر وفیسر نجم الهدی صاحب گیلانی یہ اظہار و اعلان کرتے رہتے تھے کہ آل پارٹیز مسلم کانفرنس کی امداد کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مولانا شوکت علی کے توسط سے اور دوسرے ذریعوں سے پچیس تیس ہزار روپیہ عطا فرمائے تھے۔پروفیسر موصوف پٹنہ کالج پٹنہ میں میرے سینئر شریک کار تھے اور مجھ سے بہت ہی برادرانہ اور مخلصانہ تعلقات رکھتے تھے۔" مسلم لیگ قائد اعظم کی مخلصانہ بے لوث اور پُر عزم قیادت اور دردمند مسلمانوں کی مسلم اتحاد کوشش سے دن بدن مقبولیت میں اضافہ حاصل کرتی جارہی تھی۔اسلام دشمن طاقتیں اس اتحاد و اتفاق اور ترقی کو بآسانی ہضم نہ کر سکتی تھیں۔ان کی طرف سے مسلم لیگ کو نقصان پہنچانے کی متعدد کوششیں کی گئیں۔قائد اعظم پر ذاتی حملے ، انہیں کافر اعظم قرار دینا پاکستان کو ناپاکستان اور ناقابل عمل منصوبہ قرار دینا، نیشنلسٹ مسلمانوں اور بعض مذہبی جماعتوں کا ہندو سرمائے کے زور پر مذہب کے نام پر مخالفت کرنا اور مسلمانوں میں اختلاف و افتراق پیدا کرنا وغیرہ۔پھوٹ اور اختلاف پیدا کرنے کی کوششوں میں سے ایک کوشش ۱۹۲۷ء میں کی گئی حضرت مفتی محمد صادق صاحب اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔۱۹۲۷ء میں سائمن کمیشن کے آنے کے سبب لیگ کے ممبروں میں اس امر پر اختلاف ہو گیا کہ سائمن کمیشن کے ساتھ اتفاق کیا جائے یا اس کا بائیکاٹ کیا جائے ایک پارٹی جس کے لیڈر سر محمد شفیع تھے اور جس میں پنجاب کے اکثر معززین تھے تعاون کو پسند کرتی تھی لیکن لیگ کے مستقل پریذیڈنٹ مسٹر جناح عدم تعاون کی رائے رکھتے تھے اس