سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 174
ICM ا۔جب اسلامی ممالک سے معاملہ پڑنے پر یورپ خود ان کی ایک جداگانہ حیثیت قرار دے دیتا ہے تو کیوں نہ اسلامی ممالک سچ سچ آپس میں ایک قسم کا اتحاد پیدا کر کے صحیح معنوں میں ایک عالم اسلام قائم کر لیں جس کا ہر ایک رکن اپنے ملک کی قومیت کے علاوہ اپنے آپ کو ایک بڑی قومیت یعنی عالم اسلام کا رکن قرار دے۔۲۔اسلامی ممالک کو باہمی رقابتیں دور کر کے ایک دوسرے کی خاطر قربانی کرنے کا جذ بہ پیدا کرنا چاہئے۔۳۔اسلامی ممالک کے باشندوں کو ایک دوسرے کے ملک میں بکثرت آنا جانا چاہئے اس سلسلہ میں نوجوانوں کو سوسائٹیاں قائم کر کے اجتماعی طور پر کوشش کرنی چاہئے۔۴۔اسلامی ممالک کو ایک دو سرے سے بکثرت تعلقات قائم کرنے چاہئیں۔۵۔جن علاقوں کے مسلمان نسبتاً زیادہ پس ماندہ ہیں۔مثلا مغربی اور مشرقی افریقہ وغیرہ وہاں ہمیں امدادی انجمنیں قائم کر کے ان کی مدد کرنی چاہئے۔قرآن کریم نے اسلام کی ترقی کا سب سے بڑا گر تبلیغ اسلام بیان فرمایا ہے ہمیں اس کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ان تجاویز میں سے اکثر پر بہت عرصہ گزرنے کے بعد کسی قدر عمل کیا گیا اور اس کے اچھے نتائج بھی حاصل ہوئے۔اگر پوری طرح ان پر عمل کیا جاتا تو عالم اسلام کی طاقت اور اس کے نتیجہ میں فوائد وبرکات میں کہیں زیادہ اضافہ ہو سکتا تھا۔