سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 166 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 166

ایک دوسرے کی ترقی کا موجب ہوں۔جاوا سماٹرا والے نام کے طور پر ڈچ حکومت کو ہی اپنا حاکم سمجھ لیں تاکہ ایسا نہ ہو کہ جب تک انڈونیشیا طاقت پکڑلے کوئی اور حکومت حملہ کر کے اس پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کرے۔" ان مسلم علاقوں کو آزادی نہ ملنے کے نقصانات بیان کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں:۔پس اس قسم کے مضامین بار بار اخباروں میں لکھے جائیں اور ڈچ حکومت کو بتایا جائے کہ اگر وہ انڈو نیشیا کو آزاد نہ کرے گی تو خطرہ ہے کہ وہاں کمیونزم پھیل جائے گاجو تمام دوسری حکومتوں کے لئے مضر ہو گا۔اس وقت امریکہ اور برطانیہ کمیونزم کے سخت دشمن ہیں ان کو اس وجہ سے توجہ پیدا ہوگی اور ڈچ حکومت کو سمجھوتہ کیلئے مجبور کریں گے۔یورپ میں باقی ممالک کے علاوہ ہالینڈ والوں کو خاص توجہ دلانی چاہئے کہ تمہارا جاوا سماٹرا کو آزاد کرنا تمہارے لئے کمزوری کا باعث نہیں ہو گا۔بلکہ تقویت کا موجب ہو گا۔۔۔۔ہالینڈ والوں کو سمجھایا جائے کہ انڈونیشیا والے غیر زبانوں میں سے صرف ڈچ زبان بولتے ہیں اس لحاظ سے بھی وہ تم سے الگ نہیں ہو سکتے۔اور انڈو نیشیا والے یوں بھی تم سے الگ نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کے کئی لیڈروں نے ڈچ عورتوں سے شادی کی ہوئی ہے اور ہالینڈ میں تعلیم حاصل کی ہوئی ہے اور جس قدر اس ملک میں تعلیم یافتہ ہیں وہ ڈچ زبان بولتے اور لکھتے ہیں اور اس قسم کے تعلقات منقطع کرنا بہت مشکل ہو تا ہے۔اگر تم محبت اور صلح کے ساتھ ان کو آزاد کرو گے تو ان کے دلوں میں تمہارے لئے محبت کے جذبات پیدا ہونگے اور اگر تم ان پر ظلم و تعدی کرو گے تو آزاد ہونے کے بعد ان کے دلوں میں تمہارے خلاف سخت بغض ہو گا کیونکہ ایک شخص سے اس کا بھائی لڑے تو اس کے دل میں اس کے خلاف بہت زیادہ بغض پیدا ہوتا ہے چونکہ وہ کہتا ہے کہ بھائی ہو کر اس نے مجھ پر ظلم کیا غیر کرتا تو مجھے افسوس نہ ہو تا۔اس طرح اگر ڈچ انڈونیشیا کو آزاد نہ کر سکے تو ان کے خلاف ان کا بغض شدید ہو گا کیونکہ ہالینڈ نے اس ملک سے سینکڑوں سال فائدہ اٹھایا ہے۔اتنا لمبا عرصہ فائدہ اٹھانے کے بعد بھی اور اتنے تعلقات کے بعد بھی وہ جو جونک کی طرح چمٹے رہیں گے تو دلوں میں بغض زیادہ پیدا ہو گا۔لیکن اگر ڈچ حکومت انڈونیشیا والوں سے صلح کر لے اور ان کے مطالبات مان لے تو یہ اس کی تقویت کا موجب ہو گا اس کی کمزوری کا موجب نہ ہو گا کیونکہ پرانے تعلقات کی وجہ سے