سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 142
کا ناخدا مقرر فرمایا جس نے بظاہر ہارتی ہوئی بازی کو زور دار یلغار کا رنگ دے دیا اور قرآنی بیج و براہین کو اس سلیقہ و قرینہ سے پیش فرمایا کہ خلاف اسلام طاقتیں جو اپنی یقینی کامیابی اور فتح کے نشہ میں سرشار آگے ہی آگے بڑھتی جا رہی تھیں حیران و ششدر ہو کر پسپائی پر مجبور ہو گئیں۔یہ قلمی لسانی مالی ، تبلیغی جہاد بڑی کامیابی سے جاری رہا۔خلافت ثانیہ میں بھی اس جہاد نے ہر سمت میں دن دگنی رات چوگنی ترقی حاصل کی اور دنیا بھر میں اشاعت و تبلیغ کا کام پھیل گیا۔حضرت مصلح موعود عالم اسلام کی حالت بیان کرتے ہوئے اپنے طبعی رنج اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔" آج کل جس قسم کے حالات میں سے مسلمان گزر رہے ہیں وہ نہایت ہی تاریک ہیں۔ہندوستان، فلسطین ، مصر ، انڈونیشیا ان سب جگہوں میں مسلمانوں کی ہستی سخت خطرے میں ہے۔ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، ایران میں روسی حکومت اپنا اثر و نفوذ پیدا کر رہی ہے اس لئے ایرانی حکومت کو نہایت خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، انڈونیشیا میں ڈچ حکومت مسلمانوں کو غلام بنانے کی خاطر تمام قسم کے ہتھیار استعمال کر رہی ہے ملایا میں چینیوں کو زبردستی ٹھونسا جا رہا ہے۔ہندوستان سے چل کر ایران پھر فلسطین ، مصر ، انڈو نیشیا ان سارے ہی علاقوں میں مسلمان سخت خطرات میں گھرے ہوئے ہیں۔پس تمام دوستوں کو چاہئے ان دنوں خاص طور پر دعائیں کریں۔دوسرے مسلمانوں کو بھی تحریک کرنی چاہئے کہ وہ بھی دعاؤں میں لگ جائیں۔سوائے اس کے مسلمانوں کے لئے کوئی چارہ نہیں۔" (الفضل ۱۰۔ستمبر ۱۹۴۶ء) بر صغیر پاک و ہند سے براہ راست تعلق کی وجہ ہے حضرت فضل عمر کی توجہ اس خطہ کے مسائل حل کرنے کی طرف تو ضرور رہی اور آپ ہندوستان کی بالعموم اور یہاں کے مسلمانوں کی بالخصوص ہمدردی اور خدمت میں ہمیشہ کوشاں رہے۔تاہم اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ آپ کی دلچسپی یہاں تک ہی محدود تھی کیونکہ عالم اسلام کا مفاد و بهتری ہمیشہ آپ کی ترجیحات میں اول نمبر پر رہی۔مقامات مقدسه مقامات مقدسہ کی عظمت و تقدس کے متعلق ایک نہایت ولولہ انگیز خطبہ جمعہ میں حضور نے بڑے درد اور جذبہ کے ساتھ فرمایا :۔ہم ان مقامات کو مقدس ترین مقامات سمجھتے ہیں ، ہم ان مقامات کو خدا تعالیٰ