سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 109
١٠٩ احمدی جتنی اسلام کی خدمت کر رہا ہے، جس قدر اسلام کی تبلیغ کر رہا ہے اور جس قدر اشاعت اسلام کے لئے قربانیاں پیش کر رہا ہے اتنی پچاس کروڑ مسلمان نہیں کر رہا۔اس وقت دنیا کے گوشہ گوشہ میں احمدی مبلغ پھیلے ہوئے ہیں اور وہ عیسائیت کا مقابلہ کر رہے ہیں اور مقابلہ بھی معمولی نہیں بلکہ بڑی بڑی عیسائی طاقتوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان کا مقابلہ موثر ہے۔پندرہ میں سال ہوئے لکھنو میں عیسائیوں کی ایک بہت بڑی کانفرنس ہوئی جس میں یورپ سے بھی عیسائی پادری شامل ہوئے اس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ شمالی ہندوستان میں اب کوئی اچھا شریف اور تعلیم یافتہ آدمی عیسائی نہیں ہو تا۔اس کی کیا وجہ ہے۔تمام پادری جو اس فن کے ماہر تھے انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ جب سے مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے دعویٰ کیا ہے اس وقت سے عیسائیت کی ترقی رک گئی ہے۔انہوں نے عیسائیت کی اس قدر مخالفت کی ہے کہ جہاں جہاں ان کا لٹریچر پھیل جاتا ہے عیسائیت ترقی نہیں کر سکتی پھر افریقہ کے متعلق ایک بڑی بھاری کمیٹی مقرر کی گئی تھی جسے چرچ آف انگلینڈ نے مقرر کیا تھا جس کی سالانہ آمد ہمارے بہت سے صوبوں سے بھی زیادہ ہے۔وہ چالیس پچاس کروڑ روپیہ سالانہ عیسائیت کی اشاعت کے لئے خرچ کرتے ہیں۔اس کمیٹی کی طرف سے جو رپورٹ تیار کی گئی اس میں چھتیں جگہ یہ ذکر آتا تھا کہ افریقہ میں عیسائیت کی ترقی محض احمدیت کی وجہ سے رکی ہے۔ابھی بارہ مہینے ہوئے ایک پادری جسے افریقہ کے دورہ کے لئے بھیجا گیا تھا اس نے افریقہ کے دورہ کے بعد یہ رپورٹ کی کہ افریقہ میں عیسائیت کیوں بیکار جد وجہد کر رہی ہے۔اس نے کئی جگہوں کے نام لئے اور کہا کہ وہاں عیسائیت کے راستہ میں احمدیوں نے روکیں ڈال دی ہیں اور ساتھ ہی اس نے اپنے اس خیال کا اظہار کیا کہ عیسائیت کی تبلیغ اب افریقن لوگوں میں اچھا اثر نہیں کر سکتی ہاں اسلام کی تبلیغ ان میں اچھا اثر پیدا کر رہی ہے۔اس نے کہا جب سے افریقہ میں احمدی آگئے ہیں عیسائیت ان کے مقابلہ میں شکست کھاتی جا رہی ہے۔چنانچہ عیسائیوں کا فلاں سکول جو بڑا بھاری سکول تھا اب ٹوٹنے لگا ہے اور لوگ اس میں اپنے لڑکوں کو تعلیم کے لئے نہیں بھجواتے۔پھر اس نے کہا ان حالات کو دیکھتے ہوئے کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ ہم اپنے روپیہ اور اپنی طاقتوں کا اس ملک میں ضیاع کرنے کی بجائے اس میدان کو احمدیوں کے لئے چھوڑ دیں کہ وہ ان لوگوں کو مسلمان بنا