سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 108 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 108

"ہم نے یہ کام قادیان میں شروع کیا تھا مگر خدائی خبروں اور اس کی بتائی ہوئی پیشگوئیوں کے مطابق ہمیں قادیان کو چھوڑنا پڑا اب انہی خبروں اور پیشگوئیوں کے ماتحت ہم ایک نئی بستی اللہ تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے کیلئے اس وادی غیر ذی زرع میں بسا رہے ہیں۔ہم چیونٹی کی طرح کمزور اور ناطاقت ہی سہی مگر چیونٹی بھی جب دانہ اٹھا کر دیوار پر چڑھتے ہوئے گرتی ہے تو وہ اس دانے کو چھوڑتی نہیں بلکہ دوبارہ اسے اٹھا کر منزلِ مقصود پر لے جاتی ہے اسی طرح گو ہمار اوہ مرکز جو حقیقی اور دائمی مرکز ہے دشمن نے ہم سے چھینا ہوا ہے لیکن ہمارے ارادہ اور عزم میں کوئی تزلزل واقعہ نہیں ہوا۔دنیا ہم کو ہزاروں جگہ پھینکتی چلی جائے ، وہ فٹ بال کی طرح ہمیں لڑھکاتی چلی جائے ہم کوئی نہ کوئی جگہ ایسی ضرور نکال لیں گے جہاں کھڑے ہو کر ہم پھر دوبارہ محمد رسول الله میلی لیلی کی حکومت دنیا میں قائم کر دیں اور بغیر ہمارے یہ حکومت دنیا میں قائم ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی محبت سے لوگوں کے دل خالی ہو چکے ہیں اور قرآن کریم کی حقیقی تفسیر سے وہ ناواقف ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بظاہر لوگوں کے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پائی جاتی ہے۔لاکھوں غیر احمدی ایسے ہیں جو محمد رسول اللہ صلی وی ہوم سے نہیں بلکہ آپ کی ایک نئی بنائی ہوئی شکل سے محبت کرتے ہیں۔میں نے دیکھا ہے بعض احمدی بھی غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں او ر وہ خیال کرتے ہیں کہ جب یہ لوگ محمد رسول اللہ میں تم سے محبت کرتے ہیں تو ہمارا یہ کہنا کس طرح صحیح ہو سکتا ہے کہ ان کے دلوں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی محبت نہیں حالانکہ ہم جو کچھ کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ وہ محبت تو کرتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں بلکہ محمد رسول اللہ میل کی ایک غلط تصویر ہے۔اسی طرح ہم مانتے ہیں کہ وہ قرآن کریم کی فرمانبرداری کی خواہش رکھتے ہیں مگروہ اس غلط تاویل کی فرمانبرداری کی خواہش رکھتے ہیں جو ان کے دلوں میں راسخ ہو چکی ہے۔اس لئے جب تک احمدیت دنیا میں غالب نہیں آجاتی اسلام غلبہ نہیں پاسکتا۔اور یہ اتنی موٹی بات ہے کہ میں حیران ہوں مسلمان اسے کیوں نہیں سمجھتے اور کیوں وہ اس بات پر غور نہیں کرتے کہ باوجو د الفت رسول کے وہ دنیا میں کیوں ذلیل ہو رہے ہیں؟ سیدھی بات ہے مسلمان اس وقت پچاس کروڑ ہیں اور احمدی پانچ لاکھ مگر چار پانچ لاکھ