سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 74 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 74

میرے سپرد کیا ہے۔اللہ تعالیٰ مجھے اس عہد کے پورا کر نیکی توفیق دے اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے میری تائید فرمائے۔باوجود اس کے کہ میں اب عمر کے لحاظ سے ساٹھ سال کے قریب ہوں اور ابتلاؤں اور مشکلات نے میری ہڈیوں کو کھو کھلا کر دیا ہے۔پھر بھی میرے جی و قیوم خدا سے بعید نہیں۔امید کرتا ہوں کہ وہ اپنے فضل و کرم سے میرے مرنے سے پہلے مجھے اسلام کی فتح کا ن دکھا دے۔" (الفضل ۲۱۔ستمبر ۱۹۴۷ء) اس عظیم عہد کی باز گشت جناب شیخ عبد القادر صاحب کے اس بیان میں پائی جاتی ہے۔جو انہوں نے حضور کا استحکام پاکستان کے موضوع پر ایک معرکتہ الآراء خطاب سننے کے بعد دیا۔حضور کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے اور باتوں کے علاوہ آپ نے کہا۔ایک چیز کا میرے دل پر خاص اثر ہے باوجود اس کے کہ فاضل مقرر اور ان کی جماعت کو گذشتہ ہنگاموں میں خاص طور پر بہت نقصان اٹھانا پڑا لیکن آپ نے ان حوادث کی طرف اشارہ تک نہیں کیا۔میں سمجھتا ہوں ایسا کرنے میں ایک بہت بڑی حکمت مد نظر تھی اور وہ یہ کہ حضرت مرزا صاحب کا یہ طریق ہے کہ جو کچھ ہو چکا سو ہو چکا اسے اب بدلا نہیں جا سکتا اس لئے اس پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں۔اب جو کچھ آئندہ ہو سکتا ہے اور جو ہمارے اختیار میں ہے صرف اسی پر گفتگو ہونی چاہئے۔" (الفضل ۸۔جنوری ۱۹۴۸ء) اچھے لیڈر اور رہنما کی صلاحیتیں بحران میں نمایاں تقسیم اور اخبارات کا خراج تحسین ہو کر سامنے آتی ہیں اور عربی محاورہ کے مطابق امتحان کے وقت ہی یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی انسان میں کس قدر صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔اگر ایک رہنما کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ مشکل حالات میں ہراساں نہ ہو بلکہ حوصلہ عزم اور ہمت کے ساتھ ہر مشکل پر قابو پالے اور اس کی نظر سے کوئی پہلو او جھل نہ ہو ، اگر ایک رہنما کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ حالات کے بھیانک اور خوفناک ہونے کے مطابق پہلے سے اپنی جماعت کو تیار کرلے ، اگر ایک رہنما کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں میں اتنی دلیری اور جرات اور ایمان پیدا کر دے کہ وہ بشاشت کے ساتھ اپنی جان پر کھیل جانا اپنے فرائض میں شامل سمجھیں اگر ایک رہنما کیلئے یہ ضروری ہے کہ وہ مشکل وقت میں نہ صرف یہ کہ محاذ پر ڈٹا ر ہے بلکہ قربانی دلیری اور