سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 73 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 73

توفیق ملتی۔" (الفضل ۲۱ اپریل ۱۹۴۹ء) ہمارے امام جن کے غیر معمولی عزم و ہمت کی بہت سی مثالیں پہلے دنیا د یکھ چکی تھی ان کے لئے یہ ایک بہت بڑا چیلنج تھا اور آپ کے مخالف بھی یہ دیکھ کر خوش ہو رہے تھے کہ اب ان کی جماعت کا شیرازہ بکھر جائے گا اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی خوشنما کو نپل زمانے کی اس شدید گرم کو کو برداشت نہ کر پائے گی مگر دوسری طرف یہی وہ مرحلہ تھا جس میں ہمارے پیارے امام کی اولوالعزمی بلند حوصلگی، استقامت، تدبر و فراست اور دور اندیشی کی غیر معمولی صلاحتیوں نے نکھر کر سامنے آنا تھا۔اس امر پر حضور کا وہ عہد دلالت کرتا ہے جو آپ نے تقسیم ملک کے بعد مشکلات و مصائب کے نازل ہو نیوالے پہاڑوں کے درمیان کیا۔آپ فرماتے ہیں۔قادیان اس وقت بیرونی دنیا سے بالکل کٹ گیا ہے۔ایسے وقت میں انسان کو اپنا دل ٹول کر ایسا عزم کر لینا چاہئے جس پر وہ مرتے دم تک قائم رہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام فوت ہوئے۔اس وقت میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عزم کیا تھا اور خدا تعالیٰ کے سامنے یہ قسم کھائی تھی کہ اگر جماعت اس ابتلاء کی وجہ سے فتنہ میں پڑ جائے اور ساری جماعت ہی مرتد ہو جائے تب بھی میں اس صداقت کو نہیں چھوڑوں گا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام لائے اور اس وقت تک تبلیغ جاری رکھوں گا جب تک وہ صداقت دنیا میں قائم نہیں ہو جاتی۔شاید اللہ تعالیٰ مجھ سے اب ایک اور عہد لینا چاہتا ہے۔وہ وقت میری جوانی کا تھا اور یہ وقت میرے بڑھاپے کا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے کام کرنے میں جوانی اور بڑھاپے میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔جس عمر میں بھی انسان اللہ تعالیٰ کے کام کیلئے کھڑا ہو جائے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کو برکت مل جائے۔اسی عمر میں وہ کامیابی اور کامرانی حاصل کر سکتا ہے۔لاہو ر ہی تھا جس میں میں نے وہ عہد کیا تھا اور یہاں پاس ہی کیلیاں والی سڑک پر وہ جگہ ہے۔اس لاہور میں اور ویسے ہی تاریک حالات میں میں اللہ تعالی۔۔سے توفیق چاہتے ہوئے یہ اقرار کرتا ہوں کہ خواہ جماعت کو کوئی بھی دھکا لگے میں اس کے فضل اور اس کے احسان سے کسی اپنے صدمہ یا اپنے دکھ کو اس کام میں حائل نہیں ہونے دوں گا۔بفضلہ و بتو فیقہ و بنصرہ جو خدا تعالیٰ نے اسلام اور احمدیت کے قائم کرنے کا