سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 538 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 538

۵۳۸ کے بہشتی مقبرہ میں ان کی والدہ کے پہلو میں امانتاً سپرد خاک کر دیا گیا نماز جنازہ میں پچاس ہزار افراد نے شرکت کی یہ لوگ اپنے روحانی پیشوا کی آخری زیارت کے لئے پاکستان کے ہر خطہ سے آئے ہوئے تھے بہت سے حضرات غیر ممالک سے یہاں پہنچے تھے۔مرزا بشیر الدین محمود کی تجہیز و تکفین کی رسومات میں شرکت کے لئے سوگوار احمدیوں کی آمد کا سلسلہ پیر کی صبح سے شروع ہو گیا تھا اور جنازہ کے وقت تک آنے والوں کا تانتا بندھا رہا۔تدفین کے لئے منگل کی صبح دس بجے وقت مقرر تھا لیکن مشرقی پاکستان اور غیر ممالک سے آنے والے احمدیوں کے انتظار میں تدفین میں تاخیر ہوتی رہی اور بالآخر عصر کے بعد تدفین ہوئی۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اللہ سال بعد یہ مرحلہ آیا کہ وہ اپنے رہنما سے محروم ہو گئی اور اسے نئے رہنما کے انتخاب کا مسئلہ در پیش آیا۔بانی جماعت مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد پہلے خلیفہ مولوی نور الدین منتخب ہوئے تھے وہ اپنی وفات تک چھ سال اسی منصب پر رہے ان کے بعد مرزا غلام احمد کے بڑے صاحبزادے مرزا بشیر الدین محمود احمد ۱۹۱۴ء میں خلیفہ ثانی منتخب ہوئے۔اب سے چند سال قبل جب مرزا صاحب کی صحت خراب ہوئی تو انہوں نے اپنے جانشین کے انتخاب کے لئے قواعد و ضوابط مرتب کر دیئے تھے احمد یہ جماعت کی مجلس شوری نے ان قواعد و ضوابط کی منظوری دے دی تھی۔احمد یہ جماعت کی مجلس انتخاب خلافت کا کل رات ربوہ میں اجلاس ہوا جس میں ۳۸۲ میں سے ۲۰۵- ارکان شریک ہوئے جو ارکان مجلس کے اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے ان میں سے بیشتر غیر ملکی ارکان معلوم ہوتے ہیں۔" روزنامہ امروز لا ہو ر ۹۔نومبر ۱۹۶۵ء میں رقمطراز ہے۔لاہور۔نومبر۔جماعت احمدیہ کے سر براہ مرزا بشیر الدین محمود احمد آج صبح ربوه میں انتقال کر گئے۔انہیں کل صبح دس بجے جماعت کے نئے سربراہ کے انتخاب کے بعد ربوہ میں دفن کیا جائے گا۔انتقال کے وقت مرزا صاحب کی عمرے ۷ برس تھی۔وہ ۱۹۱۴ء میں اپنی جماعت کے خلیفہ مقرر ہوئے وہ دو مرتبہ یورپ بھی گئے۔انہوں نے افریقہ یورپ اور امریکہ میں جماعت کی طرف سے تبلیغی مشن قائم کرنے میں گہری دلچسپی لی۔