سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 459
۴۵۹ بیٹھ رہنا (ب) گھنٹوں بیٹھے وظیفہ کرتے رہنا (ج) گھنٹوں اور دنوں کسی انسان سے بات نہ کرنا۔کیا آپ سفر کر سکتے ہیں؟ اکیلے اپنا بوجھ اٹھا کر بغیر اس کے کہ آپ کی جیب میں کوئی پیسہ ہو۔دشمنوں اور مخالفوں میں ناواقفوں اور نا آشناؤں میں ؟ دنوں، ہفتوں اور مہینوں۔۔کیا آپ اس بات کے قائل ہیں کہ بعض آدمی ہر شکست سے بالا ہوتا ہے؟ وہ شکست کا نام سننا پسند نہیں کرتا۔وہ پہاڑوں کو کاٹنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔وہ دریاؤں کو کھینچ لانے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ آپ اس قربانی کے لئے تیار ہو سکتے ہیں؟۔کیا آپ میں ہمت ہے کہ سب دنیا کے نہیں اور آپ کہیں ہاں؟ آپ کے چاروں طرف لوگ نہیں اور آپ اپنی سنجیدگی قائم رکھیں۔لوگ آپ کے پیچھے دوڑیں اور کہیں کہ ٹھر تو جاہم تجھے ماریں گے اور آپ کا قدم بجائے دوڑنے کے ٹھہر جائے اور آپ اس کی طرف سرجھکا کر کہیں لو مارو۔آپ کسی کی نہ مانیں کیونکہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں مگر آپ سب سے منوا لیں کیونکہ آپ بچے ہیں۔آپ یہ نہ کہتے ہوں کہ میں نے محنت کی مگر خدا تعالیٰ نے مجھے نا کام کر دیا۔بلکہ ہر ناکامی کو آپ اپنا قصور سمجھتے ہوں۔آپ یقین رکھتے ہوں کہ جو محنت کرتا ہے کامیاب ہوتا ہے اور جو کامیاب نہیں ہو تا اس نے محنت ہر گز نہیں کی۔اگر آپ ایسے ہیں تو آپ اچھا مبلغ اور اچھا تاجر ہونے کی قابلیت رکھتے ہیں۔مگر آپ ہیں کہاں خدا کے ایک بندہ کو آپ کی دیر سے تلاش ہے۔اے احمدی نوجوان! ڈھونڈھ اس شخص کو اپنے صوبہ میں اپنے شہر میں اپنے محلہ میں اپنے گھر میں اپنے دل میں کہ اسلام کا درخت مرجھا رہا ہے اس کے خون سے وہ دوبارہ سرسبز ہو گا۔“ (مرزا محمود احمد) الفضل ۲۲۔مئی ۱۹۴۸ء)