سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 440 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 440

۴۴۰ ہم اپنے گردو پیش کے حالات پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ انسان کی دنیوی زندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے نانوے فیصدی آدمی بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ اپنی عمریں محض اپنی اولاد کی بہتری کی خاطر قربان کر رہے ہوتے ہیں۔ایک عجیب قسم کا نظارہ دنیا میں نظر آتا ہے کہ دادا بیٹے کے لئے اور بینا پوتے کے لئے اور دادی بیٹی کے لئے اور بیٹی نواسی کے لئے اپنی جان قربان کر رہے ہیں اور یہ اوپر سے نیچے اترنے والی قربانی نہ زمانے کی قید سے واقف ہے نہ مذہب کی قید سے واقف ہے نہ ملک کی قید سے واقف ہے نہ علم کی قید سے واقف ہے نہ زبان کی قید سے واقف ہے نہ رنگوں کی قید سے واقف ہے۔ایک مسلمان اور ایک عیسائی اور ایک ہندو ایک کالا اور ایک گورا اور ایک زرد رنگ کا ایک مرد اور ایک عورت ایک ہندوستانی اور ایک انگریز اور ایک افریقی ایک جاہل اور ایک پڑھا لکھا انسان ایک سیدھا سادہ اور ایک فلاسفر اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں اور اپنے کاموں کی تمام شاخوں میں بس ایک ہی دھن میں لگے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اپنے آپ کو قربان کر دیں اور اس قربانی کے نتیجہ میں کچھ عزت یا کچھ جائیداد یا کچھ روپیہ یا کچھ رتبہ یا کچھ آرام حاصل کر کے اپنی اولادوں کو ورثہ میں دے دیں۔نہ آج اس کے خلاف کوئی بات نظر آتی ہے نہ پچھلی صدی میں اس کے خلاف لوگوں کا دستور تھا نہ اس سے پہلی صدی کے لوگ اس کے خلاف تھے نہ اس سے پہلی کے نہ اس سے پہلی کے۔" آج سے لے کر آدم تک آدم کا ہر بچہ اور حوا کی ہر بیٹی سوائے اس کے جو انسانیت سے خارج ہو گیا ہو صرف ایک ہی کام میں مشغول نظر آتا ہے کہ اپنے آپ کو قربان کر دے اور اپنی اولاد کو آرام اور راحت بخشے یہ عجیب ، مسلسل ، پیم اور متواتر قربانی ہے جس کی مثال شاید کسی اور جذبے میں ملنی مشکل ہو۔پس یہ ایسی چیز نہیں ہے جو انسانی نگاہ سے اوجھل ہو۔چلے جاؤ فلاسفروں کے گھروں میں یا چلے جاؤ اُجڈ اور جاہل لوگوں کے گھروں میں چلے جاؤ شہریوں کے گھروں میں یا چلے جاؤ گنواروں اور دور دراز گاؤں میں رہنے والوں کے گھروں میں وہاں اس بات کا مشاہدہ کر کے دیکھ لو کہ ایک باپ اور ایک ماں اپنی جان کی قیمت زیادہ سمجھتے ہیں یا اپنی اولاد کی قیمت زیادہ سمجھتے ہیں۔تمہیں یہی نظر آئے گا کہ وہ سب کے سب الا ما