سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 435
۴۳۵ بعض نے تین چار سو سال تک اس فرض کو ادا کیا اور پھر بھول گئیں مگر بہر حال پچھلوں کو پہلوں سے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور ان کے زمانہ سے زیادہ ملبے عرصہ تک اس فرض کو ادا کرتے رہنا چاہئے لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ابھی ہمارا مرابطہ کا اصل کام شروع نہیں ہوا۔ہمارا ا مرابطہ کا اصل کام اس دن شروع ہو گا جس دن دنیا پر روحانی طور پر ہمیں کامل غلبہ حاصل ہو جائے گا۔ہاں چھوٹے پیمانہ پر اب بھی بعض جگہ ہم نے یہ کام شروع کیا ہوا ہے جیسے قادیان میں یہ کام جاری ہے مگر اصل دن ہمارے کام کی ابتداء کا وہی ہو گا جب ساری دنیا پر ہمیں روحانی غلبہ حاصل ہو جائے گا۔اس دن سے شروع کر کے اگر ہم مرابطہ کو صرف تین چار سو سال تک قائم رکھیں گے تو زیادہ سے زیادہ ہم عیسائیوں کے مشابہہ ہو سکیں گے کیونکہ انہوں نے بھی تین چار سو سال تک اپنے غلبہ کو قائم رکھا۔ہاں اگر ہم سات آٹھ سو یا ہزار سال تک اس عرصہ کو بڑھا دیں گے تب بے شک ہم ایک ایسی قوم ہوں گے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملے گی۔پس یہ ماری موجودہ اور آئندہ نسلوں کا کام ہے کہ وہ اپنے عمل سے دنیا کو بتائیں کہ وہ کن لوگوں میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔" (الفضل ۲۸ - نومبر ۱۹۴۱ء) حضرت مسیح موعود کی عظیم الشان پیشگوئی جو جماعت میں پیشگوئی مصلح موعود کے نام سے معروف ہے اور جو بہت کی پیشگوئیوں اور نشانات کا مجموعہ ہے اس پیشگوئی کے مہتم بالشان ظہور اور اس کے نتیجہ میں خدائی تائید و نصرت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت فضل عمر فرماتے ہیں۔” وہ عظیم الشان پیشگوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۸۶ء میں فرمائی تھی پوری ہو گئی۔اس پیشگوئی کی صداقت پر وہ لاکھوں لوگ گواہ ہیں جو میرے ذریعہ پر قائم ہوئے ، جو میرے ذریعہ توحید پر قائم ہوئے ، جو میرے ذریعہ خدا اور اس کے رسول کے والہ وشیدا بنے۔عیسائی اس بات کے گواہ رہیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہو گئی ، آریہ اس بات کے گواہ رہیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہو گئی ، مسلمان اس بات کے گواہ رہیں کہ یہ پیشگوئی پوری ہو گئی آج سے اُنسٹھ سال پہلے خدائے علیم و خبیر نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو خبر دی تھی کہ میرا ایک بیٹا ہو گا اور وہ دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا یہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔انگلستان اس بات کا گواہ ہے کہ یہ پیشگوئی اسلام