سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 405 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 405

۴۰۵ جماعت کی ایسی تنظیم اور تربیت کر جائیں جو آئندہ نسلوں کے لئے بھی مفید اور موثر ہو۔آپ کی قائم کی ہوئی تنظیموں کا ذکر ہو چکا ہے اور جماعت اس امر کا تجربہ اور مشاہدہ کر چکی ہے کہ جماعت ان بنیادوں پر خدا تعالیٰ کے فضل سے غیر معمولی ترقی کر رہی ہے۔مالی نظام بھی بنیادی طور پر آپ کی نگرانی میں آپ کی ہدایات کے مطابق قائم ہوا او ر اب تک ان ہی بنیادوں پر آگے ترقی پا رہا ہے۔مالی قربانی جسے قرآنی اصطلاح میں زکوۃ کہا جاتا ہے مومن کی روحانی ترقی و تزکیہ اور قرب الہی کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہے اس کے پیش نظر آپ ہمیشہ جماعت کو مالی قربانی کے لئے تحریک کرتے رہے۔مندرجہ ذیل ارشادات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کے پیش نظر صرف آپ کے مخاطب احمدیوں کی تربیت نہ تھی بلکہ احمدیہ مستقبل کی بہتری اور آئندہ نسلوں کی روحانی ترقی بھی آپ کے پیش نظر رہتی تھی۔قربانی کی اہمیت و ضرورت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔یاد رکھو کہ آمد کی زیادتی کے ہر گز یہ معنی نہیں ہیں کہ کسی وقت تم اپنے چندوں سے آزاد ہو جاؤ گے یا کوئی وقت جماعت پر ایسا بھی آئے گا جب تم سے قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا میں ایک انسان ہوں اور آخر ایک دن ایسا آئے گا جب میں مرجاؤں گا اور پھر اور لوگ جماعت کے خلفاء ہوں گے۔میں نہیں جانتا اس وقت کیا حالات ہوں اس لئے میں ابھی سے تم کو نصیحت کرتا ہوں تا کہ تمہیں اور تمہاری اولادوں کو ٹھوکر نہ لگے کہ اگر کوئی خلیفہ ایسا آیا جس نے یہ سمجھ لیا کہ جب جماعت کو زمینوں سے اس قدر آمدنی ہو رہی ہے ، تجارتوں سے اس قدر آمدنی ہو رہی ہے ، صنعت و حرفت سے اس قدر آمدنی ہو رہی ہے تو پھر اب جماعت سے کسی اور قربانی کے مطالبہ کی کیا ضرورت ہے اس قدر روپیہ آنے کے بعد ضروری ہے کہ جماعت کی مالی قربانیوں میں کمی کر دی جائے تو تم سمجھ لو وہ خلیفہ خلیفہ نہیں ہو گا بلکہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خلافت ختم ہو گئی اور اب اسلام کا دشمن پیدا ہو گیا ہے اور جس دن تمہاری تسلی اس بات پر ہو جائے گی کہ روپیہ آنے لگ گیا ہے اب قربانی کی کیا ضرورت ہے اسی دن تم سمجھ لو کہ جماعت کی ترقی بھی ختم ہو گئی ہے۔" (الفضل ۷۔اپریل ۱۹۴۴ء) آئندہ آنے والے خلفاء اور اپنی اولاد کے نام وصیت کرتے ہوئے حضور تحریر فرماتے