سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 400 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 400

۴۰ دو پس آپ لوگ اس قسم کے پراپیگنڈا سے بالکل متاثر نہ ہوں اور آپ کے دل غمگین نہ ہوں کیونکہ شریر لوگ ایسی باتیں کیا ہی کرتے ہیں۔آپ اسی طرح اپنے ملک کی وفاداری کریں جس طرح کہ ہم لوگ پاکستان کے وفادار ہیں۔لیکن اس بات کو یاد رکھیں کہ ہندوستان کا یہ اعلان ہے کہ وہ دنیوی حکومت ہے اور مذہبی حکومت نہیں ہے اور اس طرح اس نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ وہ کسی کے مذہب میں دخل اندازی نہیں کرے گی جس کے معنے یہ ہیں کہ حکومت ہندوستان خدا کے سامنے اپنے آپ کو بری کر چکی ہے۔اسی طرح مہذب دنیا کے سامنے بھی اپنے آپ کو بری کر چکی ہے۔اگر اس کے اس اعلان کے بعد آپ لوگ تبلیغ میں سستی کریں یا آپ لوگ اشاعت میں سستی کریں تو یقیناً خدا کی نگاہ میں اور دنیا کی نگاہ میں مجرم ہوں گے حکومت ہندوستان مجرم نہیں ہوگی۔”ہندوستان میں اس وقت مسلمان جس کمزوری کی حالت میں سے گزر رہے ہیں وہ یقینا ان کے دلوں میں خوف خدا پیدا کرنے کا موجب ہو رہی ہے۔اسی طرح ہندو قوم بھی آزادی کے بعد سیاست میں اب اتنی رغبت نہیں رکھتی جتنی کہ پہلے رکھتی تھی۔ان میں بھی ایک ایسا طبقہ پیدا ہو گیا ہے جو دین کی جستجو کرنے لگ گیا ہے اور صداقت کی تلاش اسکے دل میں پیدا ہو گئی ہے۔پس ان مسلمانوں تک پہنچنا جن کے دل شکستہ ہیں اور خدا کے خوف سے معمور ہو چکے ہیں آپ کا فرض ہے۔اسی طرح وہ غیر مسلم جن کے دل میں اب دین کی جستجو پیدا ہو گئی ہے اور جو یہ سمجھتے ہیں کہ سیاست کا کام ہم نے پورا کر لیا ہے ، ہمارا ملک آزاد ہو گیا، اب ہمیں خدا کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے ان کی طرف بھی آپ کا جانا ضروری ہے۔دیکھو مسیح نے کہا تھا کہ میں بنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوں کو جمع کرنے کے لئے آیا ہوں اور مسیح صلیب کے شدید طور پر تکلیف دہ واقعہ کے بعد جس طرح بھی ہو اگر تا پڑتا ان گمشدہ بھیڑوں کی طرف گیا۔قادیان میں جو انقلاب ہوا ہے وہ تمہارے لئے بھی ایک صلیب جیسا ہی واقعہ ہے مگر اس صلیب پر سے صرف ایک شخص بچا تھا اور تم ہزاروں آدمی اس دوسری صلیب سے بچ گئے ہو۔اگر تم بھی مسیح کی طرح یہ ارادہ کر لو کہ خدا کی گمشدہ بھیڑوں کو تم نے جمع کرنا ہے تو تم ایک عظیم الشان کام کر سکتے ہو۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ ہندوستان کی جماعتوں نے موقع کی نزاکت کو نہیں