سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 395
۳۹۵ حاصل کیں تبلیغ و تربیت کے کام میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔جماعت کی جائیدادیں بھی جماعت کو واپس ملیں اور قادیان ایک موثر و متحرک مرکز بن گیا۔۱۹۴۹ء کے جلسہ سالانہ قادیان کے افتتاحی اجلاس میں پاکستانی قافلہ کے امیر مکرم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈوکیٹ لاہور نے حضرت فضل عمر کا مندرجہ ذیل زبانی پیغام سامعین تک پہنچایا۔اپنے رب پر بھروسہ رکھو۔اس کی کامل اطاعت کرو۔اس پر کامل یقین اور اس کی کامل اطاعت کے ساتھ دنیا میں امن قائم ہو سکے گا۔" حضور کا یہ پیغام چند الفاظ پر مشتمل ہے تاہم اس میں جس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ اتنا اہم اور ضروری ہے کہ اس کے بغیر انسان کی پیدائش کا مقصد ہی حاصل نہیں کیا جاسکتا۔۱۹۵۰ء کے جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر حضور نے مایوسی کے بادل چھٹ جائیں گے جلسہ سالانہ کی ابتداء کے حالات بیان فرمانے کے بعد ایک نہایت ولولہ انگیز پیغام میں سات بنیادی امور کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا۔اے برادران کرام جو قادیان میں مسنون جلسہ سالانہ کے موقع پر ہندوستان کے مختلف کناروں سے جمع ہوئے ہیں میں پہلے تو آپ لوگوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ مرکز میں اس کے مقرر کردہ جلسہ میں اس کے مامور کے مقرر کردہ ایام میں خدائے وحدہ لا شریک کا ذکر بلند کرنے کے لئے جمع ہوئے ہیں آپ لوگوں کو یا درکھنا چاہئے کہ احمدیت ایک صوفیوں کا فرقہ نہیں ہے بلکہ احمدیت ایک تحریک ہے ایک پیغام آسمانی ہے جو دنیا کو بیدار کرنے اور خدا تعالی کی طرف سے بندے کے لئے ایسے وقت میں نازل ہوا ہے جبکہ دنیا خدا کو بھول چکی تھی اور مذہب سے بیزار ہو چکی تھی اور اسلام ایک نام رہ گیا تھا اور قرآن صرف ایک نقش رہ گیا تھا۔نہ اسلام کے اندر کوئی حقیقت باقی رہ گئی تھی اور نہ قرآن کے اندر کوئی معنی رہ گئے تھے۔اسلام اسلام کہنے والے تو کروڑوں دنیا میں موجود تھے قرآن پڑھنے والے بھی کروڑوں موجود تھے لیکن نہ مسلمان کہلانے والے اسلام پر غور کرتے تھے نہ قرآن پڑھنے والے قرآن کے معنی سمجھتے تھے۔خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس غفلت اور اس سستی کو دور کرے اور اسلام کو نئے سرے سے دنیا میں قائم کرے اور پھر اپنا وجو د اپنے تازہ نشانوں کے ساتھ دنیا پر ظاہر کرے اور رسول کریم ملی او لیول کے روحانی کمالات اپنے پیروؤں اور اپنے جانشینوں کے