سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 369
۳۶۹ آنحضرت میں یا اللہ کا ارشاد ہے کہ کسی مسلمان پر کوئی ایک رات بھی اس طرح نہیں گزرنی چاہئے کہ اس نے وصیت نہ کی ہوئی ہو۔اس ارشاد کی تعمیل میں حضرت فضل عمر زندگی کے بعض اہم مواقع پر وصیت تحریر فرماتے رہے۔اسی طرح جماعتی تربیت و بهبود کی خاطر بعض خاص مواقع پر آپ جماعت کے نام پیغام بھی دیا کرتے تھے۔یہ پیغامات بالعموم ساری جماعت کے نام ہوتے تھے تا ہم بعض اوقات پیغام تو کسی خاص جماعت کے نام ہو تا مگر اس سے بھی ساری جماعت فائدہ اٹھاتی۔حضور کے خطبات تقاریر ، تحریرات و تصانیف کے ساتھ ساتھ آپ کی یہ وصایا۔پیغامات اور وقتا فوقتا جاری ہونے والی نصائح بھی جماعتی تربیت و بهتری میں بہت مفید و مؤثر کردار ادا کرتی تھیں۔ان پیغامات اور وصایا وغیرہ میں بیان فرمودہ امور آج بھی جماعت کے لئے مفید و موثر ہیں اور ان کو یک جائی طور پر دیکھنے سے یہ حقیقت اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ ہمارے آقا زندگی بھر اعلاء کلمہ اسلام کے لئے کوشاں رہے۔آپ کے بے شمار پیغامات و نصائح میں سے بعض درج ذیل ہیں۔یورپ کے احمدی مبلغین کی ایک کانفرنس کی تقریب پر حضرت فضل عمر نے حقیقی قومی جذ به اپنے پیغام میں اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ ” تمہارا اولین مقصد لوگوں کو خدا کی طرف بلانا اور دنیا میں امن کی فضاء کو قائم کرنا ہے "اسلام کی تعلیم کے مطابق حقیقی قومی جذبہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا۔میں آپ نمائندگان کو جو یورپین مشنوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کانفرنس کے لئے سوئٹزر لینڈ میں جمع ہیں۔برکت کی دعا دیتا ہوں۔اور اس امر کی طرف آپ کی توجہ مبذول کراتا ہوں کہ تمہارا اولین مقصد لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے۔اور دنیا میں امن کی فضاء کو قائم کرتا ہے۔اسلام کبھی بھی حقیقی قومی جذبہ کا مخالف نہیں ہاں تنگ قومی نظریہ کا مخالف ضرور ہے۔حقیقی قومی جذ بہ تو اسی نظریہ کا حامل ہے کہ ایک دوسرے کی مدد کی جائے۔نہ یہ کہ اس کے الٹ ہو۔وہ قوم جو تمام دنیا میں امن کی خواہاں ہوا سے بہر حال دوسری قوموں کا اعتماد حاصل کرنا از بس ضروری ہوتا ہے۔حقیقی قومی جذبہ کا دراصل مطلب یہی ہے کہ وہ دوسری قوموں کو عزت و توقیر کی نظر سے دیکھے تا اس کے نتیجہ میں اس کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک روا رکھا جائے اگر کوئی قوم ایسا طرز عمل اختیار نہیں کرتی۔تو وہ اپنی