سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 327 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 327

۳۲۷ یہ بالکل تباہی والی بات ہوگی۔بہر حال جماعت کو یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ اب ان باتوں کو قطعی طور پر برداشت نہیں کیا جا سکتا۔یہ کہنا کہ پاکستان کی حکومت کو نسی احمدی حکومت ہے لغو بات ہے۔سوال یہ ہے کہ اب تمہاری اپنی حکومت ہے چاہے موجودہ حکومت احمدی ہو یا نہ ہو۔اکثریت کو بدلنا تمہارے ہاتھ میں ہے تم تبلیغ کر کے اکثریت بن جاؤ اس سے تم کو کون روکتا ہے یا دوسری جماعتوں سے سمجھوتے کر کے اکثریت بن جاؤ اس سے تم کو کون روکتا ہے۔اگر تم تبلیغ کر کے اکثریت بن جاؤ یا مسلم لیگ یا دوسری جماعتوں سے سمجھوتہ کر کے اکثریت کا جزو بن جاؤ تو اس میں کیا شبہ ہے کہ پاکستان کی حکومت تمہاری حکومت ہی ہو گی۔" رپورٹ مشاورت ۱۹۵۰ء صفحہ ۱۶۔۱۷) مذکورہ بالا ارشاد میں جہاد کی ایک قسم کے التواء کے متعلق حضرت مسیح موعود کے ارشاد کی وضاحت اور صحیح صورت حال متعین ہوتی ہے۔شرائط کے فقدان کی وجہ سے اگر ایک وقت جہاد اصغر کو ممنوع قرار دیا گیا تو ان شرائط کی موجودگی میں جہاد کی فرضیت میں کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا یہی وجہ ہے کہ جماعت نے ہر دو امور میں وقت کے تقاضوں کے مطابق خدائی احکام پر عمل کر کے خدا تعالی کی خوشنودی حاصل کی جب کہ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر جہاد منسوخ کرنے کا اعتراض کرتے ہوئے نہیں تھکتے انہوں نے عملاً کبھی جہاد نہ کیا یا یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی زبان پر تو جہاد کے بلند بانگ دعاوی تھے مگر عمل اخلاص سے بالکل تہی دامن اور لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ کی صحیح تفسیر و تصویر تھے۔حقیقی معنوں میں کسی مسلمان ملک کا استحکام باہم اتحاد و اتفاق کے بغیر ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔اس بنیادی امر کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اور اسلام و بانی اسلام میں دیوی کے نام کی غیرت دلاتے ہوئے حضور فرماتے ہیں۔۔۔۔اگر اسلام اور محمد رسول الله ل ل ا ل کے بد ترین دشمن یہودیوں اور " عیسائیوں کو یہ دعوت دی جا سکتی تھی کہ وہ رسالت نبوی کے لئے نہیں بلکہ محض وحدانیت خداوندی کیلئے مجتمع ہو جائیں اور باہمی تعاون سے کام لیں تو کیا وجہ ہے کہ آج مسلمان اپنے باہمی اختلافات کو نظر انداز کر کے رسول اکرم میر کی صداقت اور اسلام کی اشاعت کیلئے باہمی تعاون و اشتراک سے کام نہ لے سکیں !!!!