سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 318
PIA اور سندھ کا تمام صوبہ موجودہ ترقی یافتہ طریقوں پر بہت جلد پاکستان کی زراعتی دولت میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔پاکستان معدنیات کے طور پر بھی مالا مال تھا۔یہاں کوئلہ‘سیسہ پڑول وغیرہ عام ہے۔لیکن یہ تمام ذرائع ادھورے پڑے ہیں ان کی ملکی جانچ پڑتال وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔مثلاً بلوچستان میں پٹرول عام تھا لیکن اس کی جانچ پڑتال نہیں کی گئی۔معزز ( مقرر) نے تقریر کے دوران کہا کہ پاکستان میں ایک قومی لیبارٹری کا قیام عمل میں لایا جائے۔جہاں ملک کی صنعت و حرفت کی ترقی کے لئے ریسرچ کا نام اعلیٰ پیمانہ پر کیا جا سکے۔ہنوز پورے پاکستان میں اس قسم کی کوئی لیبارٹری نہیں۔تقریر دو گہ سے زیادہ دیر تک ہوتی رہی۔پاکستان کے قیام کے بعد پاکستان کے مستقبل پر یہ پہلی تقریر ہے۔آئندہ لیکچروں کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔" "سفینہ لاہور ۴۔دسمبر۷ ۱۹۴ء) انگریزی اخبار ایسٹرن ٹائمز“ نے کشمیر کی جنگ آزادی اور فوجی تربیت کے حصول کے متعلق خبر دیتے ہوئے لکھا۔کشمیر کی جنگ آزادی کے لئے بھر پور جدوجہد کی ضرورت ہے۔حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان۔سرحد کے ساتھ ساتھ بسنے والوں کے لئے فوجی ٹرینینگ وقت کا اہم تقاضا ہے۔لاہور۔۲۔دسمبر ۱۹۴۷ء کشمیر کی آزادی پاکستان کے لئے زندگی و موت کا مسئلہ ہے۔کشمیر کا علاقہ ہندوستانی ہاتھوں میں ہونے کا مطلب یہ ہے گویا پاکستان چاروں طرف سے دشمنوں میں گھر جائے اور بھارت کے لئے ایک لقمہ تربن جائے جسے وہ جب چاہے ہڑپ کر جائے۔" یہ بیان حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد جماعت احمدیہ کا ہے جو آپ نے اپنے لیکچر میں گزشتہ شام ایک اجلاس میں دیا۔جو لاء کالج ہال میں زیر انتظام "دائرہ معارف اسلامیہ " منعقد ہوا۔اس کی صدارت مسٹر جسٹس محمد منیر فرما رہے تھے۔پاکستان کے عوام کو چاہئے آپ نے تقریر کے درمیان فرمایا۔کہ کشمیر کی جنگ آزادی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں۔کیونکہ اسی میں پاکستان کی نوزائیدہ مملکت کے