سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 317 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 317

بیان۔پاکستان کو جزائر منگلدیپ اور مالدیپ کا مطالبہ کرنا چاہئے۔مرزا بشیر الدین محمود کا مرزائی قادیانی جماعت کے امیر مرزا بشیر الدین محمود نے ایک بیان میں حکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کراچی سے چٹا گانگ جانیوالے بحری رستے پر واقع ہیں اور ان کی آبادی نوے فیصدی مسلمان ہے۔"زمیندار لاہور ۴۔دسمبر۱۹۴۷ء۔تاریخ احمدیت جلد ۱ صفحہ ۴۱۳) اخبار ”سفینہ" نے مسئلہ کشمیر اور زرعی ترقی کے متعلق حضور کی مفید تجاویز کے متعلق لکھا کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔تمام طبقوں میں تنظیم اور ضابطہ کی ایک مضبوط روح پھونک دی جائے۔کشمیر کا مسئلہ پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا سوال ہے۔کشمیر کا انڈین یونین کے قبضے میں ہوناپاکستان کا ہر طرف سے محصور ہوتا ہے اور اسے ایک اجیر کی حیثیت تک پہنچانا ہے جسے ہر وقت تباہ کیا جا سکتا ہے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود امیر جماعت احمدیہ نے لاء کالج ہال میں ایک میٹنگ میں تقریر کرتے ہوئے کہا۔یہ میٹنگ دائرہ معارف اسلامیہ کے زیر اہتمام منعقد ہوئی تھی۔مسٹر جسٹس منیر اس کے صدر تھے۔آپ نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے باشندوں کو کشمیر کی جنگ آزادی جیتنے کے لئے پوری پوری کوشش کرنی چاہئے۔اس میں پاکستان کی نوزائیدہ ریاست کے استحکام اور دفاع کا راز ہے۔کشمیر میں مجاہدین مشکل ترین حالات کے باوجود جنگ لڑ رہے ہیں۔انہیں گرم کپڑوں کی اشد ضرورت ہے اس کے کام کو آسان بنانے کے لئے گرم کپڑے انہیں بہت جلد پہنچ جانے چاہئیں۔پاکستان کے سرحدی دفاع کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے کہا کہ سرحدات کے قریب رہنے والے لوگوں کو فورا مسلح کر دینا چاہئے۔اس وقت سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ آبادی کے تمام طبقوں میں تنظیم اور ضابطہ کی ایک روح پھونک دی جائے۔آپ نے پر زور تائید کی کہ ملک کی زراعت کو زیادہ سے زیادہ ترقی دی جائے۔اس کے لئے پاکستان میں بہت زیادہ امکانات ہیں۔شاہ پور ، جھنگ، مظفر گڑھ کے اضلاع اور شمال مغربی صوبہ سرحد کے چند اضلاع