سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 316
۳۱۶ جائیں۔پاکستان کی سرحدی حفاظت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت نے فرمایا کہ سرحد سے متعلقہ دیہات اور آبادیوں کو مسلح کر دیا جائے اور انہیں فور املٹری تربیت دی جائے انہوں نے عوام میں نظم و ضبط کی سخت ضرورت کا اظہار کیا۔ملک کی زراعتی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ پاکستان کی زراعتی حالت تسلی بخش ہے اور اگر شاہ پور جھنگ، مظفر گڑھ سرحد کے کچھ اضلاع اور پورے سندھ میں زراعتی پیداوار کی طرف دھیان دیا جائے تو ہماری زراعتی پیداوار قابل رشک ہو جائے گی۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود صاحب نے پاکستان کی صنعتی خوشحالی کا بھی ذکر کیا ہے۔آپ نے فرمایا۔کوئلہ ، پڑول اور دیگر دھاتیں کافی تعداد میں موجود ہیں لیکن ابھی تک گمشدگی کی حالت میں ہیں اس کے لئے مکمل غور و خوض کی فوری ضرورت ہے مثال کے طور پر بلوچستان تیل کا زبردست منبع ہے لیکن ابھی تک اس سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔حضرت مقرر نے پاکستان کی قومی لیبارٹری کھولنے اور پاکستان کی صنعتی پیداوار کو ترقی دینے کے لئے زور دیا۔آپ نے یہ بتایا کہ پاکستان کی اس قسم کی ایک بھی لیبارٹری نہیں ہے۔" "نظام " لاہور ۴۔دسمبر۷ ۱۹۴ء) اخبار زمیندار نے یہ خبر نمایاں طور پر شائع کی:۔مجاہدین کشمیر کو ہر قسم کی امداد یجئے۔باشندگان پاکستان سے امام جماعت احمدیہ کی اپیل۔لاہور۔۲۔دسمبر۔امام جماعت احمدیہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے ایک میٹنگ کو خطاب کرتے ہوئے باشندگان پاکستان ہے اپیل کی کہ مجاہدین کشمیر کو جو پسماندہ عوام کی خاطر جنگ آزادی لڑ رہے ہیں۔ہر قسم کی امداد دی جائے۔مجاہدین کی فتح سے پاکستان کی دفاعی لائن بہت مضبوط ہو جائے گی۔آپ نے پاکستان کے دفاعی نقطہ نظر سے جغرافیائی اور معدنی ذرائع کا وسیع سلسلہ بیان کرتے ہوئے کہا۔کمرشل انڈسٹری زراعتی اور دفاعی صنعت کی ریسرچ کے لئے پاکستان کا ایک قومی ادارہ قائم کرنا چاہئے۔مسٹر جسٹس محمد منیر نے میٹنگ کی صدارت کی۔ee زمیندار ۴۴۔دسمبر۷ ۶۱۹۴ زمیندار نے اسی اشاعت میں یہ بھی لکھا کہ :۔