سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 306
۳۰۶ اس لئے اسلام ہمیشہ کے لئے قائم رہنے والا قانون ہے۔" (اسلام کا آئین اساسی صفحہ ۷۶) مختلف قرآنی احکام اور ان پر عمل کرنے کی مثالیں دینے کے بعد آپ نے فرمایا :- اسلام قانون کو فردی پاکیزگی کے ساتھ وابستہ قرار دیتا ہے کیونکہ سوسائٹی کی اصلاح فرد کی اصلاح کے ساتھ وابستہ ہے اور اچھے سے اچھا قانون فرد کے طوعی تعاون کے بغیر اچھا نتیجہ نہیں دے سکتا۔اسی لئے اسلام فرماتا ہے يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ اَنْفُسَكُمْ لَا يَضُرُّ كُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمُ (مائدہ:۱۰۶) اس لئے کوئی اسلامی آئین جاری نہیں ہو سکتا۔جب تک کہ فرد ذاتی احکام پر پہلے عمل نہ کرے۔اگر قانون کو کامیاب کرنے والی روح نہ ہو تو قانون کیا کر سکتا ہے؟ ہر قانون تو ڑا جا سکتا ہے، ہر قانون کے مستثنیات ہیں اور ہر شخص اپنے آپ کو مستثنیٰ بنا سکتا ہے۔یہ سچ ہے کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ وہ راضی نہ ہوں تو بھی وہ قاضی غریب کو الو بنانے کے لئے سو جتن کر لیتے ہیں۔پس اسلامی آئین بنانے (جس کے معنی ہیں اسلامی سوسائٹی بنانے) سے پہلے اسلامی فرد بنانا ہو گا۔ورنہ یہ تو ظاہر ہے کہ جو اسلامی فرد نہ ہو گا اسے آئین اسلام سے کیا دلچسپی ؟ جو ذاتی احکام پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں وہ کیوں قومی آئین کے لئے فکرمند ہو گا؟ اگر وہ ایسا کرے گا تو کسی ذاتی غرض کے لئے اس لئے وہ آئین اسلام نہ بنائے گا بلکہ آئین اسلام کے نام سے ایسا قانون بنائے گا جو اس کی ذات کے لئے مفید ہو۔ایسا آئین یقیناً غیر اسلامی آئین سے بھی خطرناک ہو گا کیونکہ وہ سوسائٹی کے لئے بھی مصر ہو گا اور اسلام کو بھی بگاڑنے اور بد نام کرنے والا ہو گا۔پس جب تک فرد اپنے ذاتی اعمال کو اسلام کے مطابق کرنے کیلئے تیار نہیں اسے کوئی حق نہیں کہ اسلامی آئین بنانے کا مطالبہ کرے یا دعوی کرے۔ہر مسلمان کا فرض ہے کہ وہ دیکھے کہ اسلام کے آئین بنانے والے فردی قانون اسلام پر خود کار بند ہیں۔اب میں تفصیل کو لیتا ہوں۔اسلامی آئین کے جاری کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہئے کہ سود حرام کرنا ہو گا، موجودہ سینما بند کرنے ہوں گے ، اسلامی پردہ رائج کرنا ہو گا شراب پینے والی) بند کرنی ہو گی انشورنس حرام ہو گا، جوا، صرف بازاری نہیں بلکہ