سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 259
۲۵۹ ہیں۔خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ حق کی مخالفت کی جاتی ہے اور حق پر ہونے والوں کو گالیاں دی جاتی ہیں تو میرے لئے گھبرانے کی کیا وجہ ہے اگر مجھے گالیاں دے کر ان کا دل خوش ہوتا ہے اور وہ متحدہ کاموں میں اتحاد کر سکتے ہیں تو میں سمجھوں گا کہ میری زندگی کا مقصد پورا ہو گیا۔وہ سب مل کر مجھ کو گالیاں دے لیں مگر مشتر کہ اسلامی مفاد میں اکٹھے ہو جائیں تو میں سمجھ لوں گا کہ میری تمام تحریروں اور تقریروں کا جو مقصد تھا وہ پورا ہو (الفضل ۵- جون ۱۹۲۸ء) گیا۔ee آزادی اور عزت کے خواہاں مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔ہر قوم کی حالت اس کی اپنی کوششوں سے بدلتی ہے جو قوم یہ چاہتی ہے کہ " دوسرے لوگ ہماری حالت کو بدلیں اور ہمیں ابھار میں وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔قانون ہمیں کبھی آزاد نہیں کر سکتا جب تک کہ اقتصادی طور پر اور تمدنی طور پر بھی ہم آزاد نہ ہوں۔میں نے پچھلے دنوں تحریک کی تھی کہ مسلمان اپنی اقتصادی آزادی کے لئے کوشش کریں اور الحمد للہ اس تجویز سے ہزاروں جگہوں پر مسلمانوں کی دکانیں کھلیں اور لاکھوں روپیہ مسلمانوں نے کمایا لیکن میں دیکھتا ہوں کہ پھر اس بات میں ستی ہو رہی ہے۔بد قسمتی سے مسلمان جب اٹھتے ہیں جوش سے اٹھتے ہیں مگر پھر جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں جب تک مستقل کوشش جاری نہ رہے گی اس وقت تک کامیابی نہ ہوگی۔پس اگر حریت چاہتے ہو ، اگر آزاد زندگی کی تڑپ رکھتے ہو ، اگر پھر ایک دفعہ دنیا میں عزت کی سانس لینا چاہتے ہو تو خدارا ان مستیوں اور بے استقلالیوں کو چھوڑ دو۔تعاون باہمی کی عادت ڈالو اور نقصان اٹھا کر بھی اپنے بھائی کا فائدہ کرو۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔" مسلمانان ہند کے امتحان کا وقت صفحہ ۲۰) قومی ترقی و بہبود کے اسی جذبہ کے تحت آپ مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے جو باتیں مسلمانوں نے چھوڑی ہیں جب تک وہ دوبارہ ان میں پائی نہ جائیں کبھی اور کسی حال میں ترقی نہیں کر سکتے۔محنت کی عادت ڈالیں دوسرے پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں، خدمت خلق کو اپنا فرض سمجھیں کیونکہ جب تک مسلمان اپنی مدد آپ نہ کریں گے ، محنت نہ کریں گے ، دیانتداری سے کام نہ لیں گے اپنے آپ کو مفید