سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 258
۲۵۸ تک گرنا ہمارے لئے ضروری ہے۔۔۔۔خدا نہ کرے کہ ایسا ہو بلکہ خدا کرے کہ ہماری قوم بیدار ہو کر مہاجر و انصار کا رنگ دکھاتی ہوئی دنیا کے ترقی کے میدانوں میں السَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ کے دوش بدوش کھڑی ہو اور ہر ایک قربانی اس پر عارضی نہیں بلکہ مستقل آسان ہو اور وہ کامیابی کے میدان میں ایک ایسی پائیدار یاد گار چھوڑے جس کے نقش مرور زمانہ سے بھی نہ مٹ سکیں۔te (الفضل ۱۲۔جولائی ۱۹۲۹ء) قومی سطح پر پائے جانے والے بعض نقائص اور کمزوریوں مثلا تعداد میں کم ہونا، مالی حالت کا کمزور ہونا، تعلیمی لحاظ سے پیچھے ہونا، سرکاری ملازمت میں بھر پور حصہ نہ لینا اور ان سب سے بڑھ کر عام انسانی قدروں میں بھی معیاری سطح پر نہ ہونا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اور ان کی اصلاح کی تلقین کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں:۔میں خصوصیت سے مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اس ملک میں تھوڑے ہیں تعداد کے لحاظ سے نہیں مال میں بھی بہت کم ہیں، مال ہی نہیں تعلیمی حالت میں بھی بہت پیچھے ہیں ، پھر تعلیمی حالت میں ہی نہیں بلکہ وہ اس حصہ میں بھی بہت پیچھے ہیں جو ہر ترقی کا موجب ہوتا ہے یعنی گورنمنٹ سرو سر۔۔۔۔بلکہ میں باوجود شرم و ندامت محسوس کرنے کے کہوں گا کہ وہ انسانی حالت میں بھی بہت پیچھے ہیں۔تو میں پوچھتا ہوں وہ بتائیں کہ کل ان کا کیا حال ہو گا؟ ایک معزز قوم کی زندگی تو جدا امر ہے وہ سوچیں کہ ایسی حالت میں کیا وہ ذلیل ہو کر بھی زندگی بسر کر سکیں گے ؟ پس قبل اس کے کہ معاملہ حد سے گزر جائے اور مرض لاعلاج ہو جائے اٹھو قومی اور شخصی اصلاح کی فکر کرو ورنہ حالت نہایت خطر ناک ہے۔" (لیکچر شملہ ۱۹۷۲ء صفحه ۵) مشتر کہ اسلامی مفاد کیلئے متحد ہونے کی پر زور و موثر تلقین کرتے ہوئے بڑے سوز اور درد کے ساتھ فرماتے ہیں:۔میں پھر مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ مشترکہ امور میں اتحاد کریں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ ہمارے خلاف نہ لکھیں میں صرف یہ کہتا ہوں کہ جو تحریکیں اسلام کے لئے کی جائیں ان کے خلاف نہ لکھیں بلکہ ان میں متحد ہو جائیں۔اس خطبہ میں آگے چل کر آپ فرماتے ہیں:۔