سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 17
16 ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔گھبراہٹ کی کوئی بات نہیں اللہ تعالٰی کے طریق نرالے ہوتے ہیں۔شاید وہ ۴۵ کو ۹۰ کر دے۔چنانچہ کل جو وہ فوت ہوئے تو ان کی عمر پورے ۹۰ سال کی تھی۔اس طرح احمدیت کو جو ترقیات ملیں۔وہ بھی انہوں نے دیکھیں۔اور اہ جلسے بھی دیکھے ان کے چار بچے ہیں۔جو دین کی خدمت کر رہے ہیں ایک قادیان میں درویش ہو کر بیٹھا ہے۔ایک افریقہ میں مبلغ ہے۔ایک یہاں مبلغ کا کام کرتا ہے۔اور چوتھا لڑ کا مبلغ تو نہیں۔مگر وہ اب ربوہ آگیا ہے۔اور یہیں کام کرتا ہے۔پہلے قادیان میں کام کرتا تھا۔لیکن اگر کوئی شخص مرکز میں رہے اور اس کی ترقی کا موجب ہو تو وہ بھی ایک رنگ میں خدمت دین ہی کرتا ہے۔پھر ان کی ایک بیٹی بھی ایک واقف زندگی کو بیاہی ہوئی ہے۔باقی بیٹیوں کا مجھے علم نہیں بہر حال انہوں نے ایک لمبے عرصہ تک خدا تعالیٰ کا نشان دیکھا۔جب ۴۵ سال کے بعد چھیالیسواں سال گذرا ہو گا تو وہ کہتے ہوں گے میں نے خدا تعالیٰ کا ایک نشان دیکھ لیا ہے میں نے تو پینتالیس کی عمر میں مر جانا تھا۔مگر اب ایک سال جو بڑھا ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق بڑھا ہے۔جب چھیالیسویں کے بعد سینتالیسواں سال گذرا ہو گا تو وہ کہتے ہوں گے۔میں نے خدا تعالٰی کا ایک اور نشان دیکھ لیا ہے میں نے تو پینتالیس کی عمر میں مرجانا تھا مگر اب دو سال جو بڑھے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق بڑھے ہیں۔جب سینتالیسویں سال کے بعد اڑتالیسواں سال گذرا ہو گا تو وہ کہتے ہوں گے میں نے خدا تعالیٰ کا ایک اور نشان دیکھ لیا ہے۔میں نے تو پینتالیس سال کی عمر میں مر جانا تھا۔مگر اب تین سال جو بڑھے ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق بڑھتے ہیں اور جب انچاسویں سال کے بعد پچاسواں سال گذرا ہو گا تو وہ کہتے ہوں گے۔میں نے تو ۴۵ سال کی عمر میں مر جانا تھا اب یہ پچاسواں سال گذر گیا ہے تو یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی کے مطابق گذرا ہے۔گویا وہ ۴۵ سال تک برابر ہر سال یہ کہتے ہوں گے کہ میں نے خدا تعالیٰ کا نشان دیکھ لیا۔اور ہر سال جلسہ سالانہ پر ہزاروں ہزار احمدیوں کو آتا دیکھ کر ان کا ایمان بڑھتا ہو گا۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدائی منشاء اور مشیت کے مطابق جلسہ سالانہ کا آغاز