سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 244 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 244

مام سهم۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دوسرے موقعوں کی طرح اس موقع پر بھی جو کچھ میں نے کہا وہ انہوں نے نہ مانا اور گو اس کو نہ ماننے کا نتیجہ ان کو تکلیف دہ صورت میں بھگتنا پڑا لیکن آخر کار وہی ہوا جو میں نے پہلے ہی کہا تھا۔اس طرح تقریباً تمام پیش آمدہ تحریکات اور حالات پر میں نے مشورہ دیا مگر انہوں نے نہ مانا اور گو اس وقت تو نہ مانا مگر جب وقت نکل جاتا رہا پھر اس کو مانا۔اس سے کیا یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہماری رائے مذہب کی طرح سیاست میں بھی صائب ہوتی ہے جب کہ ہم ریل کے سٹیشن سے دور ایک گاؤں میں بیٹھنے والے ہیں ، جب ہم سیاسی مجلسوں سے تعلق رکھنے والے نہیں ، جب ہم ان کتابوں کو نہیں پڑھتے جن میں سیاسی بحث ہوتی ہے اور جب ہم سیاسی امور سے اس قدر واقف بھی نہیں جس قدر وہ لوگ خود ہیں پھر اگر وقت پر ہم کوئی صلاح دیں اور مشورہ بتا ئیں اور وہ صلاح اور مشورہ بعد میں صحیح اور درست ثابت ہو تو کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہو تا کہ ان معالموں میں خدا تعالیٰ ہماری رہبری کرتا ہے اور ہمیں صحیح رائے دینے اور مفید مشورہ بتانے کے لئے خود اپنے فضل سے سکھاتا ہے۔" (الفضل ۶۔جولائی ۱۹۲۶ء) اس امر کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اور جائز رنگ میں حقوق کے حصول کے لئے کوشش کرنے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں۔ایسی تمام تحریکات جو قانون شکنی کا موجب نہ ہوں فساد اور بدامنی پیدا نہ کریں ان میں ہم شریک ہو سکتے ہیں اور دوسروں سے بڑھ کر ان میں حصہ لے سکتے ہیں کیونکہ مومن کا یہ بھی کام ہے کہ لوگوں کو ان کے حقوق دلائے یہ اسلام کا حکم ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی اسلام یہ بھی حکم دیتا ہے کہ شرارت نہ ہو فساد نہ ہو ، فتنہ نہ ہو۔دنیا خواہ ہمیں کچھ کے ہم سب کچھ برداشت کرلیں گے لیکن جو دین کا حکم ہے اسے ہم کسی حالت میں بھی نہیں چھوڑ سکتے۔" (الفضل ۷۔جنوری ۱۹۳۰ء) اس بنیادی امر کی طرف حضور به تکرار و اصرار توجہ دلاتے رہے کہ بد امنی ، تخریب کاری اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے۔اس سلسلے میں حضور نے - کرتے ہوئے یہاں تک فرمایا کہ :۔" آج ہماری اپنی حکومت نہیں ہے اگر ہمارے نوجوان بد امنی اور تشدد کے رستہ