سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 198 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 198

۱۹۸ ہے سیاسی لحاظ سے (مسلمانوں کے لئے ) یہ خود کشی کا معاملہ ہے۔۔۔۔۔۔(سوال یہ ہے کہ آزادی ملنے پر) کون قابض ہو گا مسلمان یا ہندو یا مشترکہ طور پر تو پھر ان کا اشتراک کس نسبت سے ہو گا۔اگر کہا جائے کہ حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں ہوگی تو یہ بالبداہت غلط ہے کیونکہ ہندو مسلمانوں کو کچھ بھی دینے کیلئے تیار نہیں اس لئے فیصلہ ہو جانا چاہئے کہ جب تک کوئی باقاعدہ حکومت قائم نہ ہوگی نظام مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے گا تاوہ مطمئن رہیں کہ ان کے حقوق پامال نہیں ہونگے لیکن اگر کہا جائے ہندوؤں کے ہاتھ میں ہوگی تو وہ ہندو جو آج جب کہ انگریزوں سے جنگ کرنے کیلئے انہیں مسلمانوں کی مدد کی ضرورت ہے مسلمانوں کے مطالبات نہیں مانتے تو بر سر حکومت آ جانے پر وہ کب سنیں گے بلکہ بر عکس ۷۵ فیصدی یہ امید ہے کہ ہندو مسلمانوں کو کچل ڈالیں گے۔کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی نے مسلمانوں کی حفاظت کا وعدہ کر لیا ہے مگر جب حکومت آئے گی گاندھی جی کو کون پوچھے گا۔۔۔۔اگر کہا جائے کہ عارضی طور پر انتظام کر لیا جائے گا تو پھر وہی سوال آئے گا کہ اس میں مسلمانوں کی نگہداشت کا کیا انتظام ہو گا اور پھر اگر فیصلہ کے بعد اس عارضی حکومت نے حکومت سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا تو پھر کیا ہو گا۔غرض یہ بات کہ تصفیہ حقوق بعد میں ہو گا سراسر عقل کے خلاف بات ہے۔۔۔اس لئے جب تک کوئی فیصلہ نہ ہو اس وقت تک کون حکومت کرے گالہذا حکومت کی تشکیل پہلے ہو جانا ضروری ہے اور اگر نیت نیک ہو اور مسلمانوں کو کچھ دینے کا ارادہ ہو تو پیچھے ڈالنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔بعض لوگ نادانی سے کہہ دیتے ہیں کہ ابھی کچھ ہے ہی نہیں۔تو دیں کیا؟ لیکن ہم کب کہتے ہیں کہ عملاً کچھ دے دو۔ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ فیصلہ کر لو کہ ہاتھ میں آنے کے بعد کیا دو گے۔تصفیہ بهر حال ضروری ہے تا معلوم ہو سکے کہ مسلمانوں کو ایسی پوزیشن حاصل نہیں ہوگی جس سے اسلام ہی ہندوستان سے مٹ جائے۔۔۔۔اور جب تک پہلے حقوق طے نہ کر لئے جائیں مسلمانوں کو کبھی مطمئن نہ ہونا چاہئے۔نہرو رپورٹ کی تنسیخ بھی کانگریس کی طرف سے سخت دھوکا ہے اور جو مسلمان اس سے مطمئن ہو گئے ہیں ان کی عقل پر افسوس ہے پہلے تو ڈومینین سٹیٹس کا مطالبہ تھا اور اس صورت میں کچھ نہ کچھ تسلی اس طرح ہو سکتی تھی کہ اگر ہندوؤں نے