سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 196
194 تنبیہ ہونی چاہئے دوسری بار معمولی ضمانت طلب کی جائے تیسری بار زرضمانت زیادہ کر دیا جائے۔حکومت کو اعلان کرنا چاہئے کہ موجودہ گرفتاریاں تحریک آزادی کو روکنے کیلئے نہیں بلکہ اس کے لئے بہتر فضا پیدا کرنے کی غرض سے ہیں۔ورنہ ہندوستان کو بہرحال درجہ نو آبادیات دیا جائے گا۔- مسلمان من حیث القوم موجودہ شورش سے الگ ہیں مگر ہنگامہ پشاور میں حکومت سے سخت غلطی ہوئی اور مقامی حکام نے ضبط نفس سے کام نہیں لیا حکومت کو اس کا ازالہ کرنا چاہئے۔اس ضمن میں اس قسم کا اعلان بہت مفید ہو گا کہ صوبہ سرحد کو بھی دوسرے صوبوں کے ساتھ ساتھ ملکی اصلاحات دے دی جائیں۔مسلمانوں کو شبہ ہے کہ حکومت فیصلہ کرتے وقت ان کے حقوق ہندوؤں کے شور کی وجہ سے تلف کر دے گی اس کا ازالہ ہونا چاہئے۔ے۔شاردا ایکٹ کے بارے میں بھی حکومت نے سخت غلطی کا ارتکاب کیا ہے میں خود بچپن کی شادیوں کا مخالف ہوں لیکن اس کے باوجود ہر گز پسند نہیں کرتا کہ ایک كثير التعداد جماعت سوشل اصلاح کے نام سے قلیل التعداد جماعتوں کے ذاتی معاملات میں دخل دے۔وائسرائے ہند کے پرائیویٹ سیکرٹری مسٹر کننگھم کی طرف سے اس خط کا مفصل جواب موصول ہوا جس میں اور باتوں کے علاوہ یہ بھی لکھا تھا کہ :۔" حفاظت حقوق کی نسبت مسلمانوں کی بد گمانی دور کرنے کیلئے ہزایکسلینسی اپنے اثر کو کام میں لائیں گے۔ہر میجنی کی حکومت ہمیشہ اس امر پر زور دیتی رہی ہے کہ گول میز کانفرنس میں تمام قوموں اور خاص ذمہ داری رکھنے والی جماعتوں کی نمائندگی کا ضروری خیال رکھا جائے گا۔" الفضل ۵- جون ۱۹۳۰ء) سنجیدہ مزاج ہندو ر ہنماؤں کو بھی آپ نے اس طرف توجہ دلائی کہ ان کی اور ملک کی بہتری مسلمانوں کو ان کے جائز حقوق ادا کئے جانے میں ہی ہے اس سلسلہ میں کی گئی زیادتی کسی کیلئے بھی مفید نہیں ہو سکتی۔آپ نے فرمایا۔پس میں تمام محبانِ وطن اور سنجیدہ مزاج ہندوؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ