سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 195 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 195

۱۹۵ ہم جماعت احمدیہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ ان کی طرح ہر مسلمان اپنے اس خادم جریدے کی حفاظت کیلئے کمربستہ ہے۔جب تک لمت اسلامیہ "انقلاب" کی پشت پناہ ہے۔"انقلاب" کو کفر کی طاقتیں کچھ نقصان لکھا:- " نہیں پہنچا سکتیں۔سید حبیب صاحب مدیر اخبار "سیاست" نے جماعت کی امداد کی پیشکش کے جواب میں " جناب من میں دلی شکریہ کے ساتھ آپ کے مکتوب اور تار جس کا آپ نے اس مکتوب میں حوالہ دیا ہے کی رسید پیش کرتا ہوں اور آپ کو اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ اس موقع پر آپ نے جس برادرانہ ہمدردی اور کچی اسلامی سپرٹ کا اظہار کیا ہے اس نے مجھ پر اور میرے متعلقین پر ایک دیر پا اثر قائم کیا ہے۔میں آپ کی معرفت آپ ، کی جماعت کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور انہیں اس بات کا یقین دلاتا ہوں کہ میں اس پیش کش کے لئے بے حد ممنون ہوں اب خطرہ گزر گیا ہے اور کانگریس نے میرے دفتر پر پکٹنگ کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔تاہم اگر کبھی ضرورت پیش آئی تو میں آپ کی مخلصانہ پیشکش سے فائدہ اٹھانے میں دریغ نہ کروں گا۔آپ کا حبیب" الفضل ۳۔جون ۱۹۳۰ء) سول نافرمانی کے نتیجہ میں حکومت کی طرف سے گرفتاریاں شروع ہو گئیں اور جابجا شورش پھیل گئی۔حضور نے اصلاح احوال کی خاطر وائسرائے ہند کو ایک خط لکھا جس میں سات اہم بنیادی تجاویز پیش فرمائیں۔ملک کی تمام امن و اعتدال پسند جماعتوں کے نمائندوں کی کانفرنس بلا کر مشورہ لیا جائے کہ کونسا طریق ہے جس سے قانون کا احترام بھی قائم رہے اور ہندوستانیوں کو تشدد کی شکایت بھی نہ ہو۔تمام گورنروں کی کانفرنس منعقد کی جائے اور سب ہندوستان کے لئے ایک متفقہ طریق عمل تجویز کیا جائے۔۔پریس پر پابندیاں لگانا ایک حد تک ضروری ہے لیکن اس قدر ضمانتوں کا طلب کرنا اردو پریس کے لئے ناقابل برداشت ہے اور شورش کو بڑھا دے گا پس اول صرف