سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 180
۱۸۰ الفضل ۷۔مارچ ۱۹۳۰ء کے مطابق ۱۸۔فروری ۱۹۳۰ء کو مسٹر جناح کی زیر صدارت مسلم لیگ کو نسل کا اہم اجلاس دہلی میں منعقد ہوا۔۔تالیوں کی گونج میں اعلان کیا گیا کہ دونوں شاخوں کو ملا دیا گیا ہے اس کے بعد مسٹر جناح اور سر شفیع ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے اور دونوں مسلم لیگیں ایک ہو گئیں۔گویا حضور کی ذاتی توجہ اور کوشش سے پھوٹ اور نفاق کا وہ دروازہ جو مطالبہ پاکستان اور قومی مفاد کو سبو تا ثر کر سکتا تھا بند کر دیا گیا۔ایسے ہی ایک اور موقع پر حضور مسلم رہنماؤں کو اتحاد و یکجہتی کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔مسلم لیگ میں پھوٹ پڑ جانا نہایت درجہ افسوسناک ہے اور مسلم مفاد کیلئے بے حد ضرر رساں ہے میری رائے میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس کا مجوزہ جلسہ جو۔جولائی کو منعقد ہونے والا تھا اس کو ملتوی کر دینے کی ضرورت نہ تھی۔بہتر ہو تاکہ جلسہ کر لیا جاتا اور اس میں طے شدہ مسلم پروگرام کے متعلق التواء کا فیصلہ کیا جاتا۔اگر اکثریت اس کے حق میں ہوتی تو جلسہ ملتوی کر دیا جاتا لیکن میرا خیال ہے کہ صدر نے التواء کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا۔آپ نے صرف اس خواہش کا اظہار کیا لہذا کوئی وجہ نہ تھی کہ مولانا شفیع داؤدی استعفیٰ دے دیتے۔مسلمانوں کے لئے بے حد نازک موقع ہے لہذا اتمام مسلمانوں کو چاہئے کہ بجائے اس کے کہ کوئی نئی پارٹی بنا کر مسلم مفاد کو نقصان پہنچایا جائے متحد ہو کر کام کریں۔میں مولانا محمد شفیع داؤدی سے مخلصانہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنا استعفیٰ واپس لے لیں اور اگر وہ بورڈ کا جلسہ منعقد کرنا ضروری سمجھتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنے دلائل کا نفرنس میں پیش کریں۔اس صورت میں انہیں اختیار دیا جائے لیکن اس سے باہر کام کرنا درست نہیں۔میرا خیال ہے کہ مسلمان اپنے جمود کی وجہ سے نقصان اٹھا رہے ہیں۔اگر ہمارے مسلم نوجوان دیکھیں گے کہ ہمارے لیڈر معمولی معمولی بات پر آپس میں جھگڑ رہے ہیں تو وہ باغی ہو جائیں گے اور نا تجربہ کار نوجوان کانگریس کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے اور مسلم مفاد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا اور مسلم رہنما بندوں اور خدا کے سامنے ذمہ دار ہوں گے۔نوجوانوں میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور قبل اس کے کہ معاملہ بڑھے اس کا (الفضل ۱۰۔جولائی ۱۹۳۲ء) انسداد لازمی ہے۔"