سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 179
169 اختلاف کے ساتھ کچھ اور چھوٹے موٹے اختلاف مل کر لیگ کے دو حصے ہو گئے۔۱۹۲۷ء کے آخر کا جلسہ ایک فریق نے لاہور میں بصدارت سر محمد شفیع کیا اور دوسرے فریق نے جواب جناح لیگ کے نام سے مشہور ہوئی اپنا جلسہ کلکتہ میں کیا۔اس اختلاف میں جناح لیگ کے اندر زیادہ تر ایسے ممبر رہ گئے جو نہرو رپورٹ کے حامی ہوئے۔جب سے یہ اختلاف ہوا بعض بزرگوں کی یہ کوشش رہی کہ ہر دو فریق پھر متحد ہو جائیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے بھی مسٹر اقبال اور مسٹر جناح کو اتحاد کی طرف مائل کرنے کیلئے خطوط لکھے جن کا ذکر ہر دو اصحاب نے بعض مجالس میں کیا اور ہر دو احباب مصالحت کی طرف مائل ہوئے۔مارچ ۱۹۲۹ء کی ابتدا میں سر محمد شفیع مسٹر جناح کی ملاقات دہلی میں ہوئی اس وقت عاجز بھی یہاں آیا ہوا تھا۔ہر دو اصحاب نے تبادلہ خیالات کے بعد باہمی اتحاد کا ارادہ کیا اور اس کے واسطے اخیر مارچ کا جلسہ قرار پایا۔چنانچہ اس جلسہ کے واسطے دعوتی خطوط حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کی خدمت میں بھی بھیجے گئے کہ حضور بھی تشریف لائیں اور مسلمانوں کے درمیان باہمی مصالحت کے لئے سعی فرما دیں۔" الفضل ۱۲ اپریل ۱۹۲۹ء) حضور خود تو جماعت کی سالانہ مجلس مشاورت کی وجہ سے اس جلسہ میں تشریف نہ لے جا سکے اس لئے حضور نے اپنی طرف سے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو دہلی بھیجا۔حضور کے ارشاد کے مطابق بہار سے حکیم خلیل احمد صاحب مونکھیری بھی آگئے۔حضرت مفتی صاحب مصالحت کے متعلق بہت پر امید تھے اور انہوں نے اس کیلئے ہر ممکن کوشش کی مگر سر محمد شفیع تو بیماری کی وجہ سے جلسہ میں شریک نہ ہوئے اور ان کے رفقاء لیت و لعل میں رہے۔جناح صاحب نے ہر طرح کوشش کی کہ شفیع لیگ کے تمام احباب لیگ میں شامل کر لئے جائیں مگر لیگ کے ممبروں نے ان کی سخت مخالفت کی اور مسٹر جناح کی کوئی اپیل قبول نہ کی۔مسلم لیگ کے اس اجلاس میں سبجیکٹ کمیٹی کے سامنے تین ریزولیوشن پیش ہوئے ایک مسودہ جناح صاحب کا تیار کیا ہوا تھا جس میں نہرو رپورٹ رد کی گئی تھی یہ ریزولیوشن راجہ غضنفر علی صاحب نے پیش کیا اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے اس کی تائید کی مسلم لیگ کا اجلاس کوئی ریزولیوشن پاس کئے بغیر ملتوی ہو گیا لیکن حضرت مفتی صاحب نے اپنی کوششیں برابر جاری رکھیں جو بالآخر بار آور ہو