سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 177 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 177

126 راستباز اور صاف گو بزرگ پایا۔حضرت مرزا محمود احمد صاحب نے ریزولیوشن کے حق میں چند منٹ کیلئے جو تقریر کی وہ مدروح کی انتہائی راستبازی اور راست گوئی کی دلیل تھی۔११ (ہفت روزہ خاور لا ہو ر ۲۱۔جولائی ۱۹۳۰ء۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلد ۶ صفحه ۲۳۸ ایڈیشن ۱۹۷۵ء) کانفرنس کے صدر مولوی شوکت علی خان صاحب نے اپنے تاثرات ( انقلاب ۱۶۔جولائی ۱۹۳۰ء) میں لکھا۔" خدا کے فضل سے اتنی بات نمایاں طور پر دکھائی دی کہ حاضرین میں سے ہر شخص کے دل میں یہ تمنا تھی کہ وہ خود اور باقی تمام مسلمان بھی باتوں کو چھوڑ کر موجودہ سستی کاہلی اور بے ہمتی کو چھوڑ کر جلد تر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں۔۔۔۔۔میں سارے ہندوستان کے مسلمانوں کو بشارت دیتا ہوں کہ ہماری قومی زندگی نے اپنا رنگ بدلا ہے اور آنے والے دو تین مہینوں میں ہندوستان دیکھ لے گا کہ کس شسرعت کے ساتھ وہ اپنی تنظیم کرتے ہیں۔مہاتما گاندھی نے جو کام دس برس میں کیا مسلمان اس سے دگنا کام اس مہینے میں کر دیں گے۔۔۔۔۔۔میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ حضرت مرزا صاحب امام جماعت احمدیہ کا خاص طور تذکرہ کروں کہ علاوہ چند مشوروں اور امداد کے اپنی اور اپنی جماعت کی طرف سے دو ہزار روپے کا وعدہ فرمایا اور سات سو روپے اس وقت مولانا شفیع داؤدی سیکرٹری آن १९ انڈیا مسلم کانفرنس کے خالی خزانے میں داخل کئے۔" (الفضل ۹۔جولائی ۱۹۳۰ء) صدر محترم کے یہ عزائم اور بلند پردازی یقیناً حضرت فضل عمر کی شمولیت کی مرہونِ منت ہے ورنہ خالی خزانہ اور خالی امنگوں سے تو کوئی انقلاب نہیں آیا کرتا۔اسی سلسلہ میں مولانا محمد علی کے اخبار "حمد رد" کا مندرجہ ذیل اقتباس بھی حضرت امام جماعت احمدیہ اور جماعت احمدیہ کی مسلم مفاد میں اخلاص و قربانی پر روشنی ڈالتا ہے۔" نا شکر گزاری ہوگی کہ جناب مرزا بشیر الدین محمود احمد اور ان کی اس جماعت کا ذکر ان سطور میں نہ کریں جنہوں نے اپنی تمام تر توجہات بلا اختلاف عقیدہ تمام مسلمانوں کی بہبود کیلئے وقف کر دی ہیں۔یہ حضرات اس وقت اگر ایک طرف مسلمانوں کی سیاسیات میں دلچسپی لے رہے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں کی تنظیم و تجارت میں