سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 175
ملی خدمات۔برصغیر مسلم مفاد کا ہر ممکن طریق پر خیال رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا آل مسلم پارٹیز کانفرنس حضرت فضل عمر کی ترجیحات میں بنیادی امر تھا۔آپ کی سیرت کے نمایاں نقوش کو ہم مختلف نام دے سکتے ہیں مگر بہ نظر غور دیکھنے سے یہی ثابت ہو گا کہ ہر کام میں ہر مہم میں ، ہر مشن میں ، ہر سکیم میں ایک ہی عظیم جذبہ کار فرما ہے اور وہ خدمت اسلام کا جذبہ ہے۔کم علمی اور کم فہمی یا تعصب کی وجہ سے کوئی اس امر سے انکار کرے تو کرے مگر امر واقع یہی ہے کہ ہر موقع جہاں اسلام بانی اسلام یا قرآن مجید کے متعلق کسی نے کوئی غلط بات کی اس کی تردید و تصحیح کیلئے سب سے پہلے بولنے والی زبان امام جماعت احمدیہ کی ہی ہوتی تھی ، جہاں اسلام یا بانی اسلام کیلئے کوئی خطرہ پیدا کیا جاتا سب سے پہلے سینہ سپر ہونے والا میرا آقا ہی ہو تا تھا۔اس کی متعدد شاندار مثالیں آپ کی سوانح میں نظر آتی ہیں مگر میرے جیسے بیچ مدان لکھنے والے کی تو کیا مجال ہے اچھے سے اچھا قادر الکلام نثر نگار یا شاعر بھی خدمت اسلام اور مسلمانوں کی ہمدردی کے اس جذبہ کی تصویر کشی جو حضرت فضل عمر کے قلب صافی میں موجزن تھا نہیں کر سکتا۔یہ اس زمانے کی بات ہے جب مسلم لیگ ابھی عوام تک نہیں پہنچ پائی تھی۔مسلمانوں کے بڑے بڑے لیڈر بھی مایوسی و بد دلی سے دوچار تھے بعض دردمند مسلم اکابرین نے " آل مسلم پارٹیز کانفرنس کی بنیاد رکھی۔اس کے اجزائے ترکیبی کچھ اس طرح تھے کہ تمام کو نسلوں کے منتخب ارکان اسمبلی کے منتخب نمائندگان کونسل آف سٹیسٹ کے مسلم ارکان اس کے علاوہ میں ممبر کے ہیں جمعیۃ العلماء کے ، میں خلافت کمیٹی کے اور تمہیں ہندوستان کے عام شہرت رکھنے والے لیڈر۔کہا جا سکتا ہے کہ یہ مسلم لیگ کیلئے زمین کی تیاری تھی کیونکہ جیسے ہی مسلم لیگ ایک فقال شکل میں ظاہر ہوئی یہ کانفرنس از خود اس میں ضم ہو گئی۔مسلمانوں کی تنظیم و اتحاد کی کوششوں کے سلسلہ میں حضور کا مندرجہ ذیل ارشاد بڑی اہمیت کا حامل ہے۔