سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 173
۱۷۳ قرآن مجید کی آیات سے استشہاد کرتے ہوئے مسلمانوں کو ترغیب دی ہے کہ وہ مجرم میحونیوں کے سیلاب کے مقابلہ کے لئے ایک صف میں کھڑے ہو جائیں۔جن کی امریکہ اور کمیونسٹ روس اپنی مصالح اور خاص اغراض کے ماتحت مدد کر رہے ہیں اور مسلمانوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ ضعف اور کمزوری کا اظہار نہ کریں بلکہ اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے جہاد کے سلسلے میں جو فرض ان پر عائد ہوتا ہے اسے اپنے سامنے رکھیں۔یہ ایک نہایت عمدہ خطبہ ہے اور فلسطینی مسلمانوں کے حق میں نہایت اچھا پروپیگنڈہ ہے۔ہم اللہ تعالٰی سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری نیک آرزؤں اور عمدہ خواہشات کو جو ہمارے دین کے لئے ہمارے دلوں میں موجزن میں متحقق کرے۔آمین" ( روزنامه النهضه ۱۲۔جولائی ۱۹۴۸ الفضل اگست ۱۹۴۸ء) اس کے علاوہ الیوم الف باء الكفاح الفيحاء، الاخبار، القبس، النصر، اليقظه، صوت الاحرار اور الاردن وغیرہ اخبارات و رسائل نے حضور کے تجویز فرمودہ لائحہ عمل کی تعریف میں اداریئے تحریر کئے۔ملک شام کے ریڈیو نے اس مضمون کا خلاصہ نشر کر کے اس تجویز کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا دیا۔فلسطین کا مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا، فلسطینی۔طینی در بدر ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں اسرائیلی مظالم کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ، مسلم خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے ، بچوں اور عورتوں تک کی جان و عزت محفوظ نہیں ہے مگر جس اتحاد اور اجتماعی قربانی کی طرف مسلمانوں کو بلایا گیا تھا اس کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔یہ مسئلہ ضرور حل ہو گا ارض مقدسہ ہمیشہ کے لئے عِبَادِی الصَّالِحُونَ" کے قبضہ میں آئے گی مگر اتحاد قربانی اور دلی دعاؤں کے اسی طریق پر عمل کرنے سے جو خدا کے ایک بندے نے ایک عرصہ قبل بیان کیا تھا۔کیونکہ اس طریق کو چھوڑ کر دوسرے طریقوں پر عمل کر کے ناکامی اور ذلت کے سوا اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔موجودہ حالات میں عالم اسلام کی حیثیت اور اس کا بہتر مستقبل کیلئے مفید تجاویز مستقبل " کے موضوع پر پاکستانی عدیہ کے مایہ ناز حج آنریبل جسٹس ایس اے رحمان کی صدارت میں خطاب فرماتے ہوئے حضور نے مندرجہ ذیل بیش قیمت تجاویز پیش فرما ئیں۔