سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 160
14۔ممالک کی مجموعی آبادی چھ سات کروڑ ہے لیکن یہ سب تقسیم شدہ علاقے ہیں۔مصر کی آبادی ایک کروڑ اسی لاکھ کے قریب ہے یہ ایک خود مختار علاقہ ہے۔پھر شام اور لبنان کے علاقے ہیں۔شام تقریباً کلی طور پر اور بنان تقریباً نصف مسلمان ہے۔یہ علاقے گو عربی تحریک سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن اپنی آزادی کو برقرار رکھنے پر مصر ہیں۔پھر ٹر کی ہے اسے ان عربی علاقوں سے اس قدر اختلافات تھے کہ تقریباً بتیس سال سے وہ ان ممالک سے بالکل روٹھا رہا ہے۔اب قدرے ترکی کے رویے میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔تمام عربی علاقوں کو ملا لیا جائے تو ان کی آبادی دو اڑھائی کروڑ ہے لیکن صرف عربی ممالک میں مصر کے سواسات حکومتین ہیں ان میں سے بعض بعض کی رقیب ہیں اور وہ ایک دوسری سے پوری طرح تعاون کرنے کو تیار نہیں۔ایران آبادی کے لحاظ سے چھوٹا ملک ہے اور اس میں شیعیت کی وجہ سے اور دوسرے قومی تفرقہ وانشقاق کی وجہ سے ابھرنے کے سامان موجود نہیں اس سے بھی کسی اسلامی علاقہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔افغانستان سنی ہے لیکن چھوٹا ملک ہے اور تعلیم اور صنعت و حرفت میں بہت پیچھے اس سے بھی امید نہیں کی جاسکتی کہ باوجود اُبھرنے کے دوسرے ممالک کی حمایت کر سکے۔روس کے مسلمانوں کے متعلق بھی فی الحال ابھرنے کی کوئی امید نہیں کیونکہ وہ ایک ایسی حکومت کے ماتحت ہیں جس نے ان کی مذہبی اور قومی آزادی چھین لی ہے اور ان کی ترقی کے راستے مسدود کر دیئے ہیں۔ہندوستان میں مسلمان بھاری اقلیت میں ہیں اور یہاں کے مسلمان اس وقت ایسی پوزیشن میں ہیں کہ ان کی آواز غیروں کے مقابلہ میں کوئی خاص اثر نہیں رکھتی اور خصوصاً مسلمانوں کی غیر ملکی آواز تو نہ ہونے کے برابر ہے۔غیر ملکی گورنمنٹوں پر اثر ڈالنے کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ اکثریت ایک آواز کی تائید میں ہو ورنہ اقلیت کی آواز فارن ( Foreign) گورنمنٹوں پر کوئی اثر نہیں کرتی۔چین میں آٹھ دس کروڑ کے قریب مسلمان ہیں اور تازہ یورپین اعداد و شمار کے لحاظ سے اڑھائی تین کروڑ مسلمان ہیں۔بہر حال وہ ملک کی آبادی کا چھٹا ساتواں حصہ ہیں اس لئے غیر ممالک میں ان کی کوئی آواز نہیں۔غرض جس قدر علاقے میں نے گنوائے ہیں ان میں سے آج ایک ملک بھی ایسا نہیں جہاں کے مسلمانوں کی آواز اثر پیدا کر سکتی ہے۔ہندوستان کے مشرق میں انڈونیشیا