سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 148 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 148

۱۴۸ وعدہ کو پورا کرنے کا جو ذریعہ اللہ تعالیٰ اختیار کرے وہ ہم ہوں۔وہ چاہتے تھے کہ کاش وہ ذریعہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچانے کا اختیار کرنا ہے وہ ہم بن جائیں اور وہ بن گئے۔۔۔۔ان کی اول خواہش اور تمنا بھی اور ان کی آخری خواہش اور تمنا بھی یہی تھی کہ کاش وہ قتل ہو جائیں وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں مگر آنحضرت می پر کوئی آنچ نہ :۔۔۔۔۔۔۔۔۔_zi یہ مقامات (مقامات مقدسہ) روز بروز جنگ کے قریب آرہے ہیں اور خدا تعالیٰ کی مشیت اور اپنے گناہوں کی شامت کی وجہ سے ہم بالکل بے بس ہیں اور کوئی ذریعہ ان کی حفاظت کا اختیار نہیں کر سکتے۔ادنی ترین بات جو انسان کے اختیار میں ہوتی ہے یہ ہے کہ ان کے آگے پیچھے کھڑے ہو کر جان دے دے مگر ہم تو یہ بھی نہیں کر سکتے اور اس خطرناک وقت میں ایک ہی ذریعہ باقی ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کریں کہ وہ جنگ کو ان مقامات مقدسہ سے زیادہ سے زیادہ دور لے جائے اور اپنے فضل۔ان کی حفاظت فرمائے۔وہ خدا جس نے ابرہہ کی تباہی کیلئے آسمان سے دبا بھیج دی تھی اب بھی طاقت رکھتا ہے کہ ہر ایسے دشمن کو جس کے ہاتھوں سے اس کے مقدس مقامات اور شعائر کو کوئی گزند پہنچ سکے کچل دے۔۔۔۔میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کریں کہ وہ خود ہی ان مقامات کی حفاظت کے سامان پیدا کر دے۔اور اس طرح دعا ئیں کریں جس طرح بچہ بھوک سے تڑپتا ہوا چلاتا ہے ، جس طرح ماں سے جدا ہونے والا بچہ یا بچہ سے محروم ہو جانے والی ماں آہ و زاری کرتی ہے اسی طرح اپنے رب کے حضور رو رو کر دعائیں کریں کہ۔اے اللہ ! تو خودان مقامات کی حفاظت فرما اور ان لوگوں کی اولادوں کو جو آنحضرت کیلئے جانیں فدا کر گئے اور ان کے ملک کو ان خطرناک نتائج جنگ سے جو دوسرے مقامات پر پیش آ رہے ہیں بچالے ان کی حفاظت فرما اور اندرونی اور بیرونی خطرات سے محفوظ رکھ۔آمین (الفضل ۳۔جولائی ۱۹۴۲ء) یہ دردمندانہ دعائیں اور اخلاص خدا تعالیٰ کے ہاں قبول ہوا اور اس کے فضل سے جنگ کا پانسہ پلٹا۔مقدس مقامات جنگ کی لپٹ سے محفوظ رہے اور جرمن فوجوں کو شکست ہوئی۔مندرجہ بالا خطبہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک احراری اخبار زمزم نے لکھا:۔