سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 141
۱۴۱ ملی خدمات - بین الاقوامی حضرت مصلح موعود کی درخشاں زندگی کے روشن پہلوؤں میں سے ایک نہایت نمایاں پہلو یہ تھا کہ اسلام اور مسلمانوں کی محبت کا جذبہ دلگن کسی بھی دیگر جذبہ سے بڑھ کر تھا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ آپ کے تمام پروگرام ، سکیمیں تجاویز ، منصوبے اور سرگرمیاں اول و آخر اسلام کے مفاد کی خاطر ہی ہوتی تھیں تو بلا شائبہ ریب آپ کی حد درجہ مصروف و فعال زندگی کا ہر دن اس امر کی صداقت کا گواہ ہے۔آپ کے غور و فکر کا محور یہی امر تھا کہ مسلمان خواہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں آباد ہوں، کسی رنگ و نسل سے تعلق رکھتے ہوں ، کسی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہوں کس طرح متفق و متحد ہو کر دشمنوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں سے محفوظ ہو سکتے ہیں؟ کس طرح غیر اسلامی رسوم و قیود سے دستبردار ہو کر اسلامی رفعتوں سے ہم کنار ہو سکتے ہیں ؟ کس طرح باہم اختلاف و انشقاق کی نحوست سے بیچ کر بنیان مرصوص کی عظمت حاصل کر سکتے ہیں ؟ کس طرح اپنی غفلت و سستی کی پیداوار ذہنی و فکری انتشار دور کر کے ترقی یافتہ قوموں میں اپنا مقام بنا سکتے کاہلی ہیں بلکہ قرون اولیٰ کی طرح ترقی یافتہ اقوام کو پیچھے چھوڑ کر ان سے بھی آگے نکل سکتے ہیں ؟ قومی سطح پر اول تو ایسی کوئی تحریک سرے سے نظر ہی نہیں آتی اور اگر کہیں تھوڑی بہت حرکت نظر بھی آتی ہے تو وہ قومی تباہی پر آنسو بہانے یا مرضیہ نگاری سے آگے بڑھ نہیں پاتی۔اگر انفرادی طور پر کوئی سنجیده و مخلص بہی خواہ قوم ہمدردی و غم خواری سے بہتری و بهبودی کیلئے کوشاں ہوا تو اس کی ٹانگ کھینچنے کیلئے اسے کفر کے فتووں کی یلغار پر رکھ لیا جاتا ہے۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ اس طرح ہر اصلاحی کوشش ابن الوقتوں کے شور و غوغا میں دب کر اپنی موت آپ مرجاتی اور اس کی میت کو لالچ نفسانیت اور خود غرضی کے گدھ نوچ نوچ کر کھانے لگتے۔قرآن کی مشعل اور صاحب قرآن کی روح کو فروزاں رکھنے والے قادر و کریم خدا نے دنیا کے معروف مذہبی مراکز اور خانوادوں سے الگ بہت دور سے ایک گم نام عاشق رسو میل کو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی کشتی