سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 61 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 61

کلام کرتے ہیں۔اس کی یہ بھی تعلیم تھی کہ جس حکومت کے ماتحت تم رہو۔اس کے فرمانبردار رہو۔اگر تم نے دنیا میں امن قائم رکھنا ہے تو تمہیں حکومت سے اپنے مطالبات ہمیشہ امن کے ساتھ منوانے چاہئیں اور اگر کسی وقت تمہیں اس حکومت پر اعتماد نہ رہے بلکہ تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ تمہارے مذہبی احکام کے بجالانے میں روک بنتی ہے اور تم پر مظالم ڈھاتی ہے اور جبرا تمہارا مذ ہب تم سے چھڑانا چاہتی ہے تو تمہیں اس ملک کو چھوڑ دینا چاہئے اور ایسی حکومت کے ماتحت جاکر بس جانا چاہئے جو خدائی احکام کے بجالانے میں کوئی روک پیدا نہ کرتی ہو۔یہ ساری تعلیمیں قرآن کریم میں بھی موجود ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ شخص کامل طور پر نبی نہیں تھا تو ایک مأمور من اللہ یا مجدد کی حیثیت ضرور رکھتا تھا۔اس کا نام سقراط تھا جب حکومت کو یہ معلوم ہوا کہ وہ حکومت کے خلاف تعلیم دیتا ہے تو اس پر مقدمہ چلایا گیا اور مقدمہ چلانے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسے زہر پلا کر موت کے گھاٹ اتار دیا جائے۔پرانے زمانے میں یہ بھی سزا کا ایک طریق تھا کہ جس شخص کو موت کی سزا دی جاتی تھی اسے زہر پلا کر مار دیا جاتا تھا۔سقراط کی سزا کے لئے کوئی معین تاریخ مقرر نہ ہوئی۔ہاں یہ بتایا گیا کہ جس دن فلاں جہاز جو فلاں جگہ سے چلا ہے اس ملک میں پہنچے گا تو اس کے دوسرے دن اس کو مار دیا جائے گا۔سقراط کے ماننے والوں میں بہت سے ذی اثر لوگ بھی تھے وہ اس کے پاس جاتے۔اور اس پر زور دیتے کہ وہ ملک چھوڑ دے اور کسی اور ملک میں جا یسے۔افلاطون بھی سقراط کے شاگردوں میں سے ایک شاگر د تھا۔وہ اپنی ایک کتاب میں لکھتا ہے کہ ایک دن سقراط کا فریتو " نامی شاگردان کے پاس گیا۔وہ اس وقت میٹھی نیند سو رہے تھے۔ان کے چہرے پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی اور ان کے جسم سے اطمینان اور سکون ظاہر تھا۔" فریتو " پاس بیٹھ گیا اور پیار سے آپ کا چہرہ دیکھتا رہا۔آپ کی اس حالت کو دیکھ کر کہ آپ نہایت اطمینان سے سو رہے ہیں اس پر بڑا گہرا اثر ہوا۔اس نے آپ کو جگایا نہیں بلکہ آرام سے پاس بیٹھ کر آپ کا چہرہ دیکھتا رہا۔جب آپ کی آنکھ کھلی تو آپ نے دیکھا کہ آپ کا فریتو " نامی شاگرد آپ کے پاس بیٹھا ہوا ہے اور پیار سے آپ کی طرف دیکھ رہا ہے۔آپ نے اس سے پوچھا تم کب آئے ہو اور کس طرح یہاں پہنچے ہو۔” فریتو نے کہا میں آپ کو دیکھنے کیلئے آیا ہوں۔آپ نے کہا تم اتنی جلدی صبح