سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 54
۵۴ دعاؤں ، پُرسوز استخاروں اور مخلصانہ مشوروں کے بعد آپ دار المسیح قادیان سے عازم لاہور ہوئے۔اپنے اس عہد ساز تاریخی سفر کے متعلق حضور فرماتے ہیں۔جماعتی طور پر ایک بہت بڑا ابتلاء ۱۹۴۷ء میں آیا اور الہی تقدیر کے ماتحت ہمیں قادیان چھوڑنا پڑا۔شروع میں میں سمجھتا تھا کہ جماعت کا جرنیل ہونے کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ قادیان میں لڑتا ہوا مارا جاؤں ورنہ جماعت میں بزدلی پھیل جائے گی اور اس کے متعلق میں نے باہر کی جماعتوں کو چھیاں بھی لکھ دی تھیں لیکن بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کے مطالعہ سے مجھ پر یہ امر منکشف ہوا کہ ہمارے لئے ایک ہجرت مقدر ہے اور ہجرت ہوتی ہی لیڈر کے ساتھ ہے۔ویسے تو لوگ اپنی جگہیں بدلتے ہی رہتے ہیں مگر اسے کوئی ہجرت نہیں کہتا۔ہجرت ہوتی ہی لیڈر کے ساتھ ہے۔پس میں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کی مصلحت یہی ہے کہ میں قادیان سے باہر چلا جاؤں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کے مطالعہ سے میں نے سمجھا کہ ہماری ہجرت یقینی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مجھے قادیان چھوڑ دینا چاہئے تو اس وقت لاہور فون کیا گیا کہ کسی نہ کسی طرح ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے۔لیکن آٹھ دس دن تک کوئی جواب نہ آیا اور جواب آیا بھی تو یہ کہ حکومت کسی قسم کی ٹرانسپورٹ مہیا کرنے سے انکار کرتی ہے اس لئے کوئی گاڑی نہیں مل سکتی۔میں اس وقت حضرت مسیح موعود عليه الصلوۃ والسلام کے الہامات کا مطالعہ کر رہا تھا۔الہامات کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے ایک الہام نظر آیا " بعد گیارہ " میں نے خیال کیا کہ گیارہ سے مراد گیارہ تاریخ ہے اور میں نے سمجھا کہ شاید ٹرانسپورٹ کا انتظام قمری گیارہ تاریخ کے بعد ہو گا۔مگر انتظار کرتے کرتے عیسوی ماہ کی ۲۸ تاریخ آگئی لیکن گاڑی کا کوئی انتظام نہ ہو سکا۔۲۸ تاریخ کو اعلان ہو گیا کہ ۳۱۔اگست کے بعد ہر ایک حکومت اپنے اپنے علاقہ کی حفاظت کی خود ذمہ دار ہوگی۔اس کا مطلب یہ تھا کہ انڈین یونین اب مکمل طور پر قادیان پر قابض ہو گئی ہے۔میں نے اس وقت خیال کیا کہ اگر مجھے جاتا ہے تو اس کے لئے فوراً کوشش کرنی چاہئے ورنہ قادیان سے نکلنا محال ہو جائے گا اور اس کام میں کامیابی نہیں ہو سکے گی۔ان لوگوں کے مخالفانہ ارادوں کا اس سے پتہ چل سکتا ہے کہ ایک انگریز کرنل جو بٹالہ لگا ہوا تھا میرے پاس آیا اور اس نے کہا مجھے ان لوگوں کے منصوبوں کا علم ہے۔جو کچھ یہ