سوانح فضل عمر (جلد چہارم)

by Other Authors

Page 537 of 554

سوانح فضل عمر (جلد چہارم) — Page 537

۵۳۷ خلیفہ سوم کے انتخاب کے لئے ایک انتخابی ادارہ قائم کر دیا تھا جس میں بانی سلسلہ احمدیہ کے خاندان کے افراد کے علاوہ صدرانجمن احمدیہ کے عہدیدار اور اضلاعی شاخوں کے امیر شامل تھے ایک مقامی روزنامہ کی اطلاع کے مطابق مقابلہ دو امیدواروں میں تھا۔مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے ۱۹۱۴ء میں خلافت کی گڈی پر متمکن ہونے کے بعد جس طرح اپنی جماعت کی تنظیم کی اور جس طرح صد را انجمن احمدیہ کو ایک فعّال اور جاندار ادارہ بنایا اس سے ان کی بے پناہ تنظیمی قوت کا پتہ چلتا ہے اگر چہ ان کے پاس کسی یونیورسٹی کی ڈگری نہیں تھی لیکن انہوں نے پرائیویٹ طور پر مطالعہ کر کے اپنے آپ کو واقعی علامہ کہلانے کا مستحق بنا لیا تھا۔انہوں نے ایک دفعہ ایک انٹرویو میں مجھے بتایا کہ میں نے انگریزی کی مہارت ” سول اینڈ ملٹری گزٹ " کے باقاعدہ مطالعہ سے حاصل کی۔ان کے ارشاد کے مطابق جب تک یہ اخبار خواجہ نذیر احمد کے دور ملکیت میں بند نہیں ہو گیا انہوں نے اس کا باقاعدہ مطالعہ جاری رکھا۔ہوئی۔مرزا بشیر الدین محمود احمد نے اپنی عمر میں سات شادیاں کیں جن سے ۲۳ بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئے وہ تعدد ازدواج کے زبر دست حامی تھے اور سالانہ جلسہ کے موقع پر عورتوں اور مردوں کے اجتماع میں کھلے بندوں تعدد ازدواج کی ضرورت اور اہمیت پر لیکچرز دیا کرتے تھے۔مرزا صاحب ایک نہایت سلجھے ہوئے مقرر اور منجھے ہوئے نثر نگار تھے اور ہر ایک اس موقع کو بلا دریغ استعمال کرتے تھے جس سے جماعت کی ترقی کی راہیں نکلتی ہوں۔جماعتی نقطۂ نگاہ سے ان کا یہ ایک بڑا کارنامہ تھا کہ تقسیم برصغیر کے بعد جب قادیان ان سے چھن گیا تو انہوں نے ربوہ میں دوسرا مرکز قائم کر لیا۔ان کا یہ یقین واثق تھا کہ فتح کے ذریعے انہیں ان کا مرکز اول یعنی قادیان مل کر رہے گا۔یہ ایک وجہ تھی کہ نہ تو خود انہوں نے اور نہ ان کی جماعت کے لوگوں نے قادیان کے مکانوں کے کلیم داخل کئے۔روزنامہ مشرق لاہور ۱۰۔نومبر ۱۹۶۵ء میں بھی اس سانحہ کی خبر مندرجہ ذیل الفاظ میں شائع جماعت احمدیہ کے خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود احمد کو کل بعد نماز عصر ربوہ